سعودی عرب کی خواہش ہے پاکستان کھل کر ساتھ دے : خواجہ آصف

سعودی عرب کی خواہش ہے پاکستان کھل کر ساتھ دے : خواجہ آصف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی خواہش ہے کہ پاکستان کھل کر ساتھ دے۔ پاکستان کا قومی مفاد سپریم ہے۔ چاہتے ہیں مسلم امہ کا اتحاد منتشر نہ ہو۔ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیر کو پارلیمنٹ کا اجلاس ہو گا۔ ہمارے 1000 فوجی پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔ فوج بھیجنے کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ہم پارلیمنٹ کے سامنے تمام صورتحال رکھیں گے، تمام امکانات بیان کریں گے۔ فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف آج ترکی جا رہے ہیں۔ وہ ترک وزیراعظم سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دورے میں ترک وزیراعظم کو اعتماد میں لیں گے۔ ایران کے وزیر خارجہ 8اپریل کو پاکستان آ رہے ہیں۔ سعودی حکومت نے کہا ہے کہ دونوں ممالک دیرینہ دوست ہیں، دونوں ممالک میں دفاعی تعاون بھی موجود ہے۔ یمن میں ایک قانونی اور جائز حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی ہے۔ یہ تنازعہ خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس لئے پاکستان کی شرکت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کو بتائیں گے کہ سعودی عرب ہم سے کیا توقع کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی علاقائی یکجہتی کو تاحال کوئی خطرہ نہیں۔ وسطی یمن مکلا میں القاعدہ خاصی مضبوط ہے۔ پارلیمنٹ میں اگر اپوزیشن اعتراض اٹھاتی ہے تو ہم کوئی راستہ ضرور تلاش کریں گے۔ ماضی میں جنرل ضیاء نے جو فیصلہ کیا اسے کوئی عوامی حمایت حاصل نہ تھی۔ تمام صورتحال پارلیمنٹ کے سامنے رکھ کر فیصلہ لیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے فیصلے کا احترام کیا جائے گا۔ سعودی عرب کے تحفظات ہیں کہ تنازعے کے پیچھے ایرانی مداخلت ہے۔ ہم چاہیں گے کہ تمام مسلمان ممالک کو مل کر ضمانت دیں کہ یمن کے لوگ بیرونی مداخلت کے بغیر اس تنازعہ کا خود فیصلہ کریں گے۔ یمن کے عوام کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔ کوشش ہے کہ مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کا حل نکلے۔