اراضی سکینڈل : 3 سابق جرنیل نیب کے سامنے پیش‘ بیانات ریکارڈ کرا دیئے

اراضی سکینڈل : 3 سابق جرنیل نیب کے سامنے پیش‘ بیانات ریکارڈ کرا دیئے

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) ریلوے اراضی کیس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل جاوید اشرف قاضی، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سعیدالظفر، میجر جنرل (ر) حامد حسن نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے اور اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ ذرائع کے مطابق نیب کی تفتیشی ٹیم نے ان سے سوالات بھی کئے، واضح رہے کہ تینوں سابق جرنیلوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ریلوے کی 140 ایکڑاراضی انتہائی سستے داموں پر رائل پام گالف کلب لاہورکو دے کر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔اس وقت جاوید اشرف قاضی وزیر ریلوے، سعیدالظفر سیکرٹری ریلوے اور حامد حسن جنرل مینجر ریلوے کے طور پر کام کررہے تھے، جاوید اشرف قاضی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائے شٹ اپ اور ایڈیٹ کہتے ہوئے چلے گئے۔ نیب ہیڈکوارٹر آمد پر جاوید اشرف قاضی نے صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکارکردیا اور " شٹ اپ ایڈیٹس " کہے کر چل دئیے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان ریلوے کی 140 ایکڑ اراضی 39 سالہ لیز بھی دے دی گئی تھی اور سپریم کورٹ کے حکم پر نیب حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔اس موقع پر سعیدالظفرکا کہنا تھا کہ 11 سال سے جرنیلوں کا میڈیا ٹرائل کیاجارہاہے قوم کو یہی پیغام دوں گا کہ بیگم الماس کو ووٹ دیں۔ نیب نے سمد خان اور سابق ممبر فنانس خورشید احمد خان کو بھی سمن جاری کردیئے گئے ہیں اور انہیں پیر کے روز نیب میں بھی طلب کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں نیب نے 5 ٹول پلازوں کے ٹینڈرز کے اجراءمیں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرنے اور اختیارات کے غلط استعمال پر این ایچ اے کے افسران کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے سابق ایم ڈی اور ڈی آئی جی پولیس عبدالمجید خان سمیت دیگر کے خلاف جاری 4 انکوائریوں کو شواہد کی عدم فراہمی پر بند کردیا ہے۔