مبینہ دھاندلی کیس: الیکشن کمشن کے مزید 6 گواہ آج طلب: تحریک انصاف نے نجم سیٹھی سے 35 پنکچرز کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا

 مبینہ دھاندلی کیس: الیکشن کمشن کے مزید 6 گواہ آج طلب: تحریک انصاف نے نجم سیٹھی سے 35 پنکچرز کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) 2013 ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات بارے قائم جوڈیشل کمشن نے دو گواہوں نجم عزیز سیٹھی اور حامد میرکے بیانات قلم بند کرلئے ہیں فریقین کے وکلاء نے ان پر جرح مکمل کرلی ہے۔ کمشن نے آج الیکشن کمشن کے مزید6 گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ بطور گواہ عمران خان پر جرح کرنا چاہتے ہیں جس پر کمشن نے انہیں اس حوالے سے نئی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی ہے، مسلم لیگ ن کے وکیل نے 16حلقوں کے ریٹرننگ افسروں کو ریکارڈ سمیت طلب کرنے کی استدعا کی، اس پر انکوائری کمشن نے الیکشن کمشن کو صرف ان حلقوں سے متعلق رزلٹ اور بیلٹ پیپرز کے بارے میں ریکارڈ آج پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل تین رکنی کمشن نے سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے گواہوں پر جرح کی ،ان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے سینئر اینکر حامد میر نے بتایا کہ انہوں نے عام انتخابات کے دوران ٹی وی نیٹ ورک کی الیکشن ٹرانسمیشن میں حصہ لیا تھا انتخابات کے حوالے سے مختلف پروگرام کئے ۔اس میں انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بھی پروگرام تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک آزاد مبصر ہیں۔ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جہاں دھاندلی ہوئی ہے متعلقہ ادارے اس بات کا نوٹس لیں تاکہ مستقبل میں مضبوط جمہوریت کی بنیاد پڑ سکے ان کا کام غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے ،کمشن میں ان کے پروگرامز کی سی ڈیز ملٹی میڈیا پر چلائی گئیں جن میں انھوں نے بتایا تھا کہ نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ قبائلی علاقوں میں بھی دھاندلی ہوئی، اس حوالے سے انھوں نے انتخابی مواد بھی پیش کیا تھا۔ جس میں بیلٹ پیپرز ،بیلٹ پیپرز کی پور ی پوری کتابیں اور مہریں تک شامل تھیں۔ پروگراموں میں مختلف امیدواروں کی شکایات بھی پیش کی گئیںجنھوں نے انتخابی دھاندلیوں کا طریقہ کار بیان کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے فافن کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بھی پروگرام کیا تھا جس میں ان پولنگ سٹیشنوں کی نشاندہی کی گئی تھی جہاں 100فیصد سے بھی زائد ووٹ کاسٹ ہوئے تھے انھوں نے بتایا کہ یہ ان کی اپنی معلومات نہیں تھیں بلکہ خالصتاً فافن کی رپورٹ اس کی بنیاد تھی انھوں نے فافن کے سربراہ مدثر رضوی کو بھی اپنے پروگرام میں بلایا تھا کچھ دھاندلی کے شواہد انہوں نے خود اور کچھ ذرائع سے حاصل کئے، کراچی کے ایک پولنگ سٹیشن کے حوالے سے رپورٹ نشر کی تھی جس میں خواتین ووٹرز کو فائرنگ کرکے پولنگ سٹیشن کے اندر جانے سے روک دیا گیا ان خواتین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کوئی ایکشن نہ لینے پر اہلکاروں پر چوڑیاں پھینکیں تھیں۔ حامد میر نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے ایک امیدوار(متحدہ دینی محاذ) شاہ عبدالعزیز نے انھیں بیلٹ پیپرز کی بوری دکھائی تھی کے پی کے اس حلقہ سے پی ٹی آئی جیتی تھی۔ دوران سماعت ملٹی میڈیا پر حامد میر کے تین پروگراموں کی فوٹیج چلائی گئی جن میں انتخابی دھاندلی کے مختلف منظر دکھائے گئے تھے ، این اے 64 سرگودھا اور این اے40میں مختلف امیدواروں کے بندے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے(سٹمپ) لگارہے تھے۔ این اے 156خانیوال میں ایک شخص ووٹوں کا پورا بیگ چوری کرکے لے جاتے ہوئے پکڑا گیا، اسی بیگ میں پی پی 212کے ووٹ شامل تھے ۔ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ یورپی یونین کے نمائندے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے بات کر رہے ہیں ۔فاضل کمشن نے ان فوٹیجز کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی ہدایت کی۔ دوران سماعت حامد میر نے بیلٹ پیپرز کی ایک کتاب لہراتے ہوئے کمشن کو بتایا کہ یہ سندھ سے ڈاکٹر راحیلہ مگسی کے حلقے سے متعلق ہے۔ جس میں پی پی کے امیدوار کے نام کے آگے مہریں لگی ہوئی ہیں۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ میں نے یہ کتاب اپنے کئی پروگراموں میں دکھائی ہے لیکن الیکشن کمشن نے کبھی ان سے کوئی رابطے کی زحمت گوارا نہیں کی ،کمشن نے کہا کہ یہ تو الیکشن کمشن کی پراپرٹی ہے ، پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے ان 3 پروگرامز کی سی ڈیز کمشن میں جمع کرائی گئیں ایک سی ڈی حامد خان کی جانب سے بھی کمشن کو دی گئی ،کمشن نے اسے بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل اعتزاز احسن نے پوچھا کہ آپ کو یہ کتاب کس نے دی ہے۔ حامدمیر نے کہا کہ وہ نام نہیں بتا سکتے ۔جس پر جسٹس ناصر الملک نے بھی کہا کہ یہ صحافی ہیں انھیں معلومات کو چھپانے کا تحفظ حاصل ہے یہ ان کے ذرائع ہیں کمشن میں یوں منظر عام پر نہیں لائے جاسکتے کمشن نے ضرورت سمجھی تو بعد میں پوچھ لے گی۔ مسلم لیگ ن کے وکیل شاہد حامد نے ان سے سوال کیا کہ کیا انھیں کسی انتخابی عذرداری میں کسی ٹربیونل نے انھیں طلب کیا ہے۔ حامد میر نے نفی میں جواب دیا۔ شاہد حامد کے ایک سوال پر حامد میر نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ فافن کی 100 فیصد ووٹوں کی رپورٹ کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا۔ لیکن یہ علم نہیں کہ فافن نے اس حوالے سے الیکشن کمشن سے معذرت کی ہے ۔ شاہد حامد نے ان سے سوال کیا کہ میر ابراہیم رحمان کون ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو نیٹ افسر ہیں۔ شاہد حامد نے پوچھا کہ کیا آپ کو علم ہے کہ میر ابراہیم رحمان نے جوڈیشل کمشن کو خط لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے چینل پر متعصبانہ رپورٹنگ کے الزامات کے دفاع کیلئے انہیں بھی طلب کیا جائے تو حامد میر نے جواب دیا کہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں۔ الیکشن کمشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے ان پر جرح کی جس کے بعد بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے وکیل ساجد ترین نے جرح کی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے الیکشن ٹرانسمیشن کے دوران بتایا تھا کہ اختر مینگل اور محمد شفقت کے حلقوں کے نتائج کو جان بوجھ کر لیٹ کیا گیا۔ سابق نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم عزیز سیٹھی نے بتایا کہ نگران وزیراعلیٰ کے طور پر ان کا نام وزیر اعظم نے پیش کیا تھا جس پر لیڈر آف اپوزیشن نے اتفاق کیا تھا، اس سے قبل میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے انتخابات 2013ء سے چند روز قبل ان کے اختیارات محدود ہوگئے تھے۔ انہوں نے عبدالحفیظ پیرزادہ کے سوال پر بتایا کہ انہیں علم نہیں ہے کہ الیکشن کمشن نے بیلٹ پیپر کی چھپائی کیلئے 200 آدمی مانگے تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انتخابا ت سے چند روز قبل بیوروکریسی نے ماڈل ٹائون اور رائے ونڈ کا رخ کیا تھا ، ایک سوال پر بتایا کہ 20 یا 21 جون 2013ء کو وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بھتیجی پاکستان مسلم لیگ کی خواتین کیلئے مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن بنیں۔ شاہد حامد کے سوال پر نجم سیٹھی نے بتایا کہ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی پٹواری سے لیکر سیکرٹری تک تما م افسروں کو تبدیل کر دیا تھا لیکن چار سیکرٹریز کو تبدیل نہیں کیا تھا۔ الیکشن کمشن نے چودھری قمر زمان (موجودہ چیئرمین نیب)کو چیف سیکرٹری مقرر کیا تھا جس پر عمران خان نے شدید مخالفت کی تھی میں نے چیف الیکشن کمشنر سے استدعاکی تھی کہ انہیں مقرر نہ کیا جائے بعد ازاں جاوید اقبال کو چیف سیکرٹری مقرر کیا گیا جن کے نام پر عمران خان نے بھی اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے ملاقاتیں کیں، ان میں چودھری شجاعت حسین، پرویز الٰہی ، میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف، عمران خان ، جماعت اسلامی اور پی پی کے رہنما شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں 1998ء میں نواز شریف انتظامیہ نے گرفتا ر کیا تھا اور چیف جسٹس کے حکم پر رہائی ملی تھی، وہ ٹوٹل تین دفعہ جیل گئے،نجم سیٹھی نے کمشن سے کہا کہ وہ ڈھیروں دستاویزات لیکر آئے تھے مگر محسوس ہوتا ہے کہ کمشن کو ان سے کوئی دلچسپی نہیں ،کمشن نے کہا جس چیز کی ضرورت ہوگی کمشن کا تعلق صرف اس سے ہے ۔نجم سیٹھی پر مسلم لیگ کے وکیل شاہد حامد نے بھی جرح کی مگر ان کی جرح زیادہ تر غیر متعلقہ سوالات پر مبنی تھے جس پر کمیشن نے انہیں روک دیا، گواہوں پر جرح مکمل ہونے کے بعد ق لیگ کے وکیل خالد رانجھا نے 16 انتخابی حلقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ریٹرننگ افسروں کو ریکارڈ سمیت طلب کرنے کی استدعا کی۔ کمشن نے کہا کہ اس طرح تو کام بہت لمبا چلاجائے گا، فارم 15,16.17،14کے حوالے سے ریکارڈ طلب کرلیتے ہیں ابھی آر اوز کو بلانے کی ضرورت نہیں الیکشن کمشن کے وکیل نے بھی اس بات کی تائید کی، کمشن نے ، الیکشن کمشن کے وکیل سلیمان اکرم راجہ کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی، آج 6مزید گواہوں پر جرح کی جائے گی جس میں الیکشن کمشن اور پرنٹنگ پریس کے اہلکار شامل ہیں ان میں شبیر احمد مغل، اشفاق سرور، عبدالوحید، غیاث الدین بلبن، فضل الرحمن اور خلیق الرحمان شامل ہیں۔ مزید سماعت آج ہو گی ق لیگ کی قیادت آج پیش ہو گی۔ بی بی سی کے مطابق جب نجم سیٹھی بطور گواہ پیش ہوئے تو پاکستان تحریک انصاف نے ان سے ان 35حلقوں میں دھاندلی کے حوالے سے ایک سوال بھی نہیں پوچھا گیا جس کی بنیاد پر پی ٹی آئی منظم دھاندلی کے الزامات عائد کرتی ہے۔ انہیں 35پنکچرز کا نام دیا جاتا ہے وہ اس وقت غائب تھے۔ آن لائن کے مطابق حامد میر نے دوران جرح بتایا کہ 120حلقوں میں دھاندلی ہوئی۔ انہوں نے بعض حلقوں کے بیلٹ پیپر اور کھلے ہوئے تھیلے تک دکھائے تھے۔ تحریک انصاف نے پارٹی چیئرمین عمران خان کے نام بطور گواہ تجویز کیا ہے۔