لگتا ہے ہمارے ملک میں آئینی ترمیم کیلئے کوئی حدود نہیں: سپریم کورٹ

لگتا ہے ہمارے ملک میں آئینی ترمیم کیلئے کوئی حدود نہیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ) اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترامیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اس کی حدود کہاں تک ہے؟ لگتا ہے ہمارے ملک میں آئین میں ترمیم کے لئے کوئی حدود ہی نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 15 جون کے بعد اکیسویں آئینی ترمیم پر دلائل سنیں گے۔ خیبر پی کے حکومت کے وکیل افتخار گیلانی نے کہا کہ 33 ممالک کے آئین میں بنیادی ڈھانچے کا ذکر ہے اور ان ملکوں کے آئین کے بارہ نکات ایک جیسے ہیں، اس پر جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا کہ کیا آئین کا آرٹیکل سکس بنیادی ڈھانچے سے متعلق نہیں؟ آئین کی منسوخی سے بچنے کے لئے آرٹیکل سکس میں ترامیم کی گئیں۔ جسٹس دوست محمد نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے کہ ترمیم کے ذریعے کسی کو نجی فوج بنانے کی اجازت دے؟ افتخار گیلانی نے جواب دیا کہ پارلیمنٹ کو بادشاہ سے زیادہ اختیار ہیں، کچھ بھی کرسکتی ہے۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ریمارکس دیئے کہ سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق کو معطل کرسکتی ہے؟ کیا بنیادی حقوق بنیادی آئینی ڈھانچے کا حصہ ہیں؟ اس پر خیبر پی کے حکومت کے وکیل نے جواب دیا کہ عدالت خود یہ قرار دے چکی ہے کہ آئین میں ترمیم کے لئے کوئی بنیادی مثال موجود نہیں۔ افتخار گیلانی نے دلائل مکمل کرلئے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت آج بروز منگل 2 جون تک ملتوی کردی گئی ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان نے کہا کہ آئین میں 18ویں ترمیم پر ہمارے کوئی تحفظات نہیں ہیں کیونکہ دنیا کے دساتیر میں سے 12 نکات کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا گیا ہے جس کے خلاف کوئی ترمیم نہیں ہوسکتی، آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی صرف ریفرنڈم کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہونے کے باوجود خود بھی آئین کے بنیادی ڈھانچہ کے حوالے سے کلیئر نہیں ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ججز تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لئے عوامی رائے کے ذریعے آئین کا آرٹیکل 175 اے لایا گیا ہے، دنیا کے 33 ممالک جو آئین رکھتے ہیں کی رائے ہے کہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو سیاسی جماعت اکثریت میں ہوتی ہے وہ حکومت بناتی ہے۔ جسٹس محمد دوست خان نے افتخار گیلانی سے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 239 کے تحت مقننہ کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ تقسیم اختیارات کے اصول کے منافی نہیں تو فاضل وکیل نے جواب دیا کہ انہیں 18 ویں ترمیم کے صرف ایک نکتہ پر اختلاف ہے وہ یہ ہے کہ جو رکن اسمبلی فلور پر اپنی پارٹی کے موقف کے خلاف بات کرے گا، اس کی رکنیت ختم ہوجائے گی۔ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی آئینی ترمیم پر جب عوام کو اعتماد میں نہ لیا جائے تو کیا ایسی صورت میں بھی پارلیمنٹ کے پاس ترامیم کا اختیار ہے کیونکہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی صرف ریفرنڈم کے ذریعے ہی کی جاسکتی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 2008ء کے انتخابات سے قبل ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے ذریعے منشور میں واضح کردیا تھا کہ ججز تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی جائے گی اور اس طرح آئین کا آرٹیکل 175 اے عوام کی رائے سے لایا گیا ہے۔