ایف بی آر کا ہدف پورا کرنے کیلئے ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئندہ مالی سال کے لئے مقررہ ٹیکس ہدف کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس نیٹ میں اضافے کی بجائے ایک بار پھر ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ ود ہولڈنگ ٹیکس سمیت ایس آر اوز کے خاتمے کے ذریعے ہدف کو پورا کیا جائے گا، گزشتہ 20 سالوں سے ٹیکس فری مراعات حاصل کرنے والے طبقے آئی پی پیز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے انکم ٹیکس ایکٹ میں ترمیم کی سفارشات تک نہیں دی گئی ہیں۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق ملک میں ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے بنایا جانے والے ایف بی آر کے اصلاحات پر اب تک ایک ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں مگر کمشن ایف بی آر ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے علاوہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکا ذرائع کے مطابق ایف بی آر ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لئے جدید نظام لانے کی بجائے پرانے نظام کو دوبارہ رائج کرنے پر غور کر رہی ہے گزشتہ 15 سالوں سے ایف بی آر نے ملک کے ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے کوئی سروے نہیں کیا ہے۔ ایف بی آر نے نادرا ، ریونیو اور بنکوں سمیت مختلف اداروں سے ملک میں لگثرری گاڑیوں اور پلازوں کے مالکان ، مہنگے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا ذریعہ معاش ، بیرون ممالک پراپرٹی خریدنے والوں کی تفصیلات اور بڑے بڑے اکائونٹس ہولڈروں کے کوائف حاصل کئے ہیں مگر سیاسی دبائو کی وجہ سے ابھی تک ان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے اقدامات نہیں کئے جا سکے ہیں۔