عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے مزید 8 کروڑ روپے ڈبو دیئے: صدیق الفاروق

اسلام آباد (ثنا نیوز) عمران خان نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے مزید 8کروڑ روپے ڈبو دیئے۔ اب عمران خان 10دن کے اندر شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے اکائونٹ میں 38کروڑ روپے جمع کروائیں اور وہ خود بلکہ ان کے تمام رشتہ دار ٹرسٹ کی سربراہی اور رکنیت سے فی الفور مستعفی ہوں تاکہ کینسر ہسپتال کے سیاسی استعمال کا امکان  ہمیشہ کیلئے ختم ہو سکے کوئی اور ملک ہوتا تو عمران خان اس وقت جیل میں ہوتے۔ یہ مطالبہ مسلم لیگ (ن) کے چیف کوآرڈینیٹر محمد صدیق الفاروق نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال کو شفاف طریقے سے چلانے کیلئے ایک عدالتی کمیٹی مقرر کریں اور ملک کی نامور تین آڈٹ کمپنیوں پر مشتمل ایک انوسٹی گیشن کمیٹی مقرر کریں جو ٹرسٹ کے مالی معاملات کا روز اول سے آڈٹ کر کے حقائق قوم کے سامنے رکھے۔ مسلم لیگی رہنما نے تمام انسان دوست لوگوں سے اپیل کی کہ وہ شوکت خانم ٹرسٹ کو عطیات، زکوٰۃ، خیرات وغیرہ دینا جاری رکھیں تاکہ کینسر کے مریضوں کا علاج جاری رہے۔ صدیق الفارو ق نے کہا کہ ٹرسٹ کا سرمایہ عمران خان یا ان کے رشتہ داروں کا ذاتی سرمایہ نہیں اس لئے ان کے خاندان کے لوگ بورڈ آف گورنرز کے ممبرز کسی بھی صورت میں نہیں بننے چاہئیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ ایدھی ٹرسٹ شوکت خانم ٹرسٹ سے 100گنا بڑا ادارہ ہے اور میں عبدالستار ایدھی کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے آج تک اس کا سیاسی استعمال نہیں کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے شریف میڈیکل سٹی اور دیگر خیراتی کاموں کا کسی سیاسی پلیٹ فارم سے کبھی ذکر تک نہیں کیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ عمران خان آخر ٹرسٹ کی سربراہی سے کیوں استعفیٰ دیں؟ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ عمران خان نے یہ ٹرسٹ قوم کے پیسوں سے نیک نیتی سے قائم کیا تھا لیکن جب سے وہ سیاست میں آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے ٹرسٹ کا سیاسی استعمال شروع کر رکھا ہے لہٰذا Conflict of Interest کے اصول کے تحت ان کا استعفیٰ لازمی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں صدیق الفاروق نے کہا کہ آئرلینڈ سے دبئی تک شوکت خانم کے مقدس سرمایہ کا پراسرار سفر اور اس کے نتیجے میں38کروڑ کا نقصان مجھے یہ کہنے سے نہیں روک سکتا کہ شوکت خانم ٹرسٹ کے دیگر مالی معاملات بھی مبینہ طور پر مشکوک ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ کی جانب سے جاری بیان میںتازہ نقصان کی تفصیل  بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شوکت خانم کو زکوٰۃ اور عطیات کی مدات میں وصول ہونے والی رقوم سے آف شور کمپنی میں 3ملین ڈالر کی سرمایہ کاری جو کہ پہلے ہی ڈوب چکی ہے کے علاوہ مزید 6کروڑ 78لاکھ روپے ایک مشکوک اور ڈوبتے ہوئے انوسٹمنٹ بنک میں سرمایہ کاری کر کے ڈبو دیئے گئے۔