طاہر القادری صرف سیاست چمکا رہے ہیں، پارلیمنٹ نہیں آ سکتے، فوج ناراض نہیں: پرویز رشید

طاہر القادری صرف سیاست چمکا رہے ہیں، پارلیمنٹ نہیں آ سکتے، فوج ناراض نہیں: پرویز رشید

اسلام آباد (ثناء نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید  نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ نوازشریف جب بھی اقتدار میں آتے ہیں  فوج کے ساتھ تنائو  پیدا کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ  ایوب خان، یحییٰ خان  اور ضیاء الحق  کے ایڈونچرز کا کون ذمہ دار ہے۔ یہ تاثر بھی غلط  ہے کہ وزیراعظم  غیرملکی دوروں  پر ایک صوبے کے وزیراعلیٰ  کو ساتھ لے جاتے ہیں  اکثر دوروں پر دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ  بھی وزیراعظم  کے ساتھ گئے ہیں۔ نجی ٹی وی سے  انٹرویو میں پرویز رشید نے کہاکہ بیلٹ بکس سے نکلے ہوئے فیصلے کو مان لینا ہی جمہوریت  ہے۔ وزیراعظم کراچی اور بلوچستان کے مسائل  کے پیش نظر دونوں شہروں میں متعدد بار گئے ہیں  کراچی جا کر انہوں نے 11 بار میٹینگیں  کیں  4 بار بلوچستان  گئے۔ ہماری کوششوں سے ملک بھر میں ہونے  والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک سوال پر پرویز رشید  نے کہا کہ فوج  ناراض نہیں،  مشرف کی باقیات  ایسا تاثر  دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے فوج  کو اپنا کام  کرنے میں  کسی قسم کی  رکاوٹ پیش آتی ہو۔ اگر فوج کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں تو وہ کیوں ناراض ہو گی یہ محض ایک الزام ہے اس میں کوئی سچائی نہیں۔ وفاقی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو تسلیم کیا ہے، وزیراعظم صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کرتے رہتے ہیں، حکومت کی حکمت عملی سے دہشتگردی میں کمی آئی ہے، وزیراعظم پنجاب کے نہیں پورے ملک کے وزیراعظم ہیں، اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا موقع نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے منشور پر عمل کر رہی ہے، حکومت ملک کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے رات دن کوشاں ہے، حکومت کی حکمت عملی سے دہشتگردی میں کمی واقع ہوئی ہے۔  سابق صدر پرویز مشرف کے مریدین کو صرف تکلیف ہے۔ مولانا طاہر القادری صرف سیاست چمکا رہے ہیں وہ پارلیمنٹ میں نہیں آسکتے۔ حکومت اور فوج میں تناؤ نہیں، کچھ قوتیں حکومت اور فوج کے درمیان افواہیں پھیلا رہی ہیں، حکومت اپنے ایجنڈا کے مطابق اپنے کاموں میں مصروف ہے، فوج کے ساتھ حکومت کا کوئی مسئلہ نہیں حکومت نے ماضی کی غلط پالیسیوں سے سبق سیکھا ہے، یہ ماضی کی تاریخ نہیں دہرائے گی بلکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں،حکومت پرویز مشرف کے معاملے میں مداخلت نہیں کر رہی بلکہ قانون کے مطابق سابق صدر کے خلاف کارروائی ہورہی ہے، پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو نظر بند کردیا تھا لیکن حکومت ایسا نہیں کرے گی۔ حکومت اور فوج کا ایک مؤقف پر ہے، فوج اپنے وزیر دفاع کی اہمیت سمجھتی ہے، وزیر دفاع کے ساتھ فوج نے غلط رویہ نہیں اپنایا۔ حکومت نے میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائی بلکہ خود میڈیا کے لوگ اپنے اوپر قدغن لگا رہے ہیں،ماضی میں کچھ سیاسی جماعتوں نے میڈیا پر پابندیاں لگائی ہیں۔ جیو کے خلاف حکومت نے جیو کے اعتراض پر پیمرا میں درخواست دائر کی، جیو کے پروگرام سے آئی ایس پی آر کے سربراہوں کی دل آزاری ہوئی، جیوگروپ کو چاہئے کہ وہ یہ مسئلہ حل کرے، پیمرا اپنے قانون کے مطابق فیصلے کرے گا حکومت  مداخلت نہیں کرے گی۔