رمضان سے قبل اتحاد بننے کا امکان، طاہرالقادری نے شجاعت کو رابطوں کا ٹاسک دیدیا

رمضان سے قبل اتحاد بننے کا امکان، طاہرالقادری نے شجاعت کو رابطوں کا ٹاسک دیدیا

اسلام آباد (آن لائن) گرینڈ الائنس میڈیا کی اختراع نکل۔ طاہرالقادری عمران خان ایک دوسرے کی لندن آمد تک سے بے خبر تھے۔ چودھری برادران کی طاہر القادری سے ملاقات گزشتہ کئی عرصہ کے مسلسل رابطوں کا نتیجہ تھی۔ کینیڈا ویزا میں رکاوٹوں کے باعث (ق) لیگی رہنماؤں نے لندن کا رخ کیا۔ رمضان المبارک سے قبل بڑا الائنس بننے کا امکان روشن ہے۔ سنی اتحاد کونسل، وحدت المسلمین اور فیصل رضا عابدی پہلے مرحلے میں الائنس کا حصہ ہوں گے جبکہ ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور شیخ رشید ’’تیل دیکھوں اور تیل کی دھار‘‘ کے مصداق سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے۔ طاہرالقادری  نے دیگر جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک چوہدری شجاعت  کودیدیا ہے۔ لندن کے باوثوق ذرائع نے آن لائن کو بتایا  قائد عوامی تحریک ڈاکٹر طاہرالقادری تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کی لندن موجودگی سے بے خبر تھے اور پہلے سے شیڈول تنظیمی دورے کے سلسلے میں علامہ قادری برطانیہ پہنچے تھے جبکہ دوسری جانب عمران کو بھی طاہرالقادری کی لندن آمد کا قطعی علم نہیں تھا۔ البتہ اس اتفاق کو اس وقت اہمیت حاصل ہوگئی جب میڈیا نے  ٹوئٹر پر  تحریک انصاف کے مرکزی رہنما کے ایک ٹوئٹ پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی خبر بریک کی۔ بعدازاں معلوم ہوا کہ مذکورہ شخصیت کا ٹوئٹ اکاؤنٹ جعلی تھا۔ ذرائع نے بتایا حقیقت یہ تھی کہ چودھری برادران کسی ممکنہ اتحاد کیلئے علامہ طاہرالقادری سے گزشتہ کافی عرصے سے مسلسل رابطے میں تھے اور وہ مئی کے آخر میں ملاقات کیلئے کینیڈا جانا چاہتے تھے البتہ ویزا میں تاخیر کی وجہ سے (ق) لیگی رہنماؤں کیلئے کینیڈا جانا ممکن نہ رہا تو ملاقات کیلئے لندن کا انتخاب کیا گیا۔ (ق) لیگ اور عوامی تحریک کے درمیان اتحاد نہیں بلکہ انقلابی ایجنڈے پر اتفاق ہوا ہے۔ طاہر القادری نے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک چوہدری شجاعت کو سونپ دیا جبکہ انکے صاحبزادے ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (ق) لیگی سربراہ کی اس سلسلے میں معاونت کریں گے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شیخ رشید اتحاد میں شمولیت کیلئے  عمران خان کی طرف دیکھیں گے لیکن فوری طور پر انکی شمولیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تحریک انصاف طاہر القادری کی اس’’سیاسی پھرتی‘‘ کے باعث ایک مرتبہ پھر اسی مخمصہ کا شکار ہوگئی ہے جس کا سامنا اسے ایک سال قبل  عوامی تحریک کے دھرنا پر ہوا تھا۔ تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما  کے پی کے حکومت کو بچانے  اور نظام کو چلنے دینے  کی پالیسی پر گامزن ہے جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد  کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ قادری کے انقلابی ایجنڈا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا واضح سٹینڈ بھی اس موقع پر رمضان المبارک کے اوآخر پر سامنے آنے کا امکان ہے۔
رمضان سے قبل اتحاد