امریکہ افغانستان کے تیل و گیس ذخائر پر نظر رکھے ہوئے ہے: روسی دانشور

اسلام آباد (جاوید صدیق) روسی فیڈریشن کے سٹیٹ کونسلر اور افغانستان کے لئے ترقیاتی پروگرام کی ٹیم کے سربراہ یوری کرینوف نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں حاصل ہوائی اڈے اس لئے اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے کہ اس کی اس علاقے کے تیل اور گیس کے ذخائر پر نظر ہے۔ اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے بعد وقت نیوز کے پروگرام ’’ایمبیسی روڈ‘‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے روسی دانشور یوری کرینوف نے کہا ہے کہ پاکستان‘ ایران اور دوسرے علاقائی ممالک افغاستان میں امن اور استحکام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے روس اپنا موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روس افغانستان میں 80 کی دہائی کی شکست کا امریکہ سے بدلہ لینا چاہتا ہے اس لئے اس کی کوشش ہے کہ امریکہ افغانستان میں پھنس جائے اور اس کی فوج کا بھی اسی طرح نقصان ہو جس طرح 80ء کی دہائی میں روسی فوج کا مجاہدین کے ہاتھوں نقصان ہوا تھا تو یوری کرینوف نے کہا کہ یہ بات درست نہیں ہے روس افغانستان میں پاکستان اور علاقائی ممالک کے تعاون سے امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ یوری کرینوف نے کہا کہ افغانستان میں صنعتیں قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان افغانوں کو روزگار مل سکے ورنہ افغانستان کے نوجوان منشیات کی سمگلنگ اور دوسرے دھندوں میں لگ جائیں گے۔ روسی دانشور نے کہا کہ پاکستان اس خطے کا اہم ملک ہے جو افغانستان میں استحکام کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز نہیں ہو سکا، کیا وہ سرد جنگ کی تلخیوں کو بھول کر تعاون نہیں کر سکتے تو یوری کرینوف نے کہا کہ پاکستان اورروس کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات ہیں‘ پاکستان روس کی ٹیکنالوجی سے استفادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب روس اور بھارت میں وہ قربت نہیں رہی جو کہ ماضی میں تھی‘ پاکستان کو نئی صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو تیل اور گیس پر انحصار کم کر کے صنعتی ترقی پر زور دینا چاہئے اور پاکستان کو بھی صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنی چاہئے تاکہ پاکستان میں بیروزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔