اسلام آباد: کئی افغان مہاجرین سر ڈھانپنے کیلئے مکان اور امن کے متلاشی

اسلام آباد (شہلا عنبرین/ دی نیشن رپورٹ) افغانستان میں 13 سال سے جاری جنگ کی وجہ سے نقل مکانی کر کے پاکستان منتقل ہونے والے ہزاروں افغان مہاجرین اس وقت انتہائی کسمپرسی میں ہیں۔ یہ مہاجرین واپس افغانستان جانے کے بھی قابل نہیں اور پاکستان میں اپنے گھر سے محروم اور امن کے متلاشی ہیں۔ اسلام آباد کے جی نائن میں ایک افغان  خاتون گزشتہ 7 سال سے مفت کھانے کے حصول کیلئے روزانہ دکانوں کے سامنے بیٹھی ہے۔ اپنے دو بچوں کے ساتھ وہ ہر روز اندھیرا ہونے تک دکانوں کے سامنے فٹ پاتھ پر موجود رہتی ہے جہاں کھانا کھا کر واپس جانیوالے اس کو کچھ باقی کھانا یا رقم دے دیتے ہیں۔ اس کے بچے بھی کسی بھی کھانے کی دکان پر تقسیم ہونے والی اشیاء کے منتظر ہوتے ہیں۔ صرف اسی خاتون اور اسکے دو بچے زندگی کا سہارا باقی رکھنے کیلئے دوسروں کے رحم و کرم پر نہیں پڑے ہوئے بلکہ اس طرح کے کئی افغان، تاجک اور پاکستانی خاندان دارالحکومت میں نان و نفقہ کے محتاج ہیں۔ مذکورہ خاتون ان لوگوں میں سے نہیں جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہو جائے۔ اس سے قبل اس کا شوہر پاکستان آ کر پلاسٹک کے تھیلے بیچتا تھا مگر اس کے مفلوج ہونے کے بعد ساری ذمہ داری بی بی پر آن پڑی ہے جس کا کہنا ہے کہ وہ واپس افغانستان نہیں جا سکتی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ اسے پاکستانی شناختی کارڈ جاری کیا جائے۔