وزراءکی عدم موجودگی پر چیئرمین سینٹ برہم، پیپلز پارٹی کا واک آٹ

اسلام آباد (وقائع نگار+ آئی این پی) چےئرمےن سےنٹ نے اجلاس مےں وزراءکی عدم شرکت اور ارکان کی کم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی افسوسناک روےہ قرار دےا ہے۔گزشتہ روز سےنٹ کا اجلاس چالےس منٹ کی تاخےر سے شروع ہو ا تو صرف پانچ ارکان جبکہ اےک وزےر اےوان مےں موجود تھے۔ چےئرمےن سےنٹ نے کہا تلاوت کے دوران اےک رکن اےوان مےں موجود نہےں تھا۔ سنےٹر زاہد خان نے کہا ےہ قائد اےوان کی ذمہ داری ہے وہ ارکان اور وزراءکی حاضری کو ےقےنی بنائےں حکومت کا سےنٹ کے حوالے سے روےہ اس اےوان کی تذلےل ہے۔ سینےٹر رضا ربانی نے کہا چےئرمےن سےنٹ کے تحفظات درست ہےں۔ حکومت پارلےمنٹ کو غےر سنجےدہ لے رہی ہے۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب پر بحث کا آغاز ہو گیا جبکہ ایوان بالا کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ملکی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے کہا عوام کو درپیش مسائل حل نہیں ہورہے‘ لگتا ہے وفاق اور صوبوں میں حکومتیں عوام کو نہیں بلکہ اقتدار میں لانے والوں کے سامنے جوابدہ ہیں، 18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، متوازی عدلیہ بنانے سے عدلیہ اور جمہوریت کمزور ہو گی، پنجاب قدرتی ذخائر کو استعمال میں لائے، آبی ذخائر میں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا وفاق اور صوبوں میں حکومتیں عوام کو نہیں ان کو جوابدہ ہیں جو انہیں اقتدار میں لے کر آئی ہیں۔ اے این پی کے سینیٹر زاہد خان نے کہا ہمارے وقت میں وزیر اعظم ہر ہفتے ایوان میں آتے تھے، رویے جمہوری تھے، بدقسمتی سے وزیر داخلہ سے سوال کیا گیا جواب غلط ہے واپس لیں وہ اس حد تک چلے گئے کہ سینیٹ نے اپوزیشن کا سیشن باہر چلایا۔ سینیٹر خالدہ پروین نے کہا بلدیاتی انتخابات جلد ہونے چاہئیں، پسماندہ اضلاع کے فنڈز سنٹرل پنجاب میں لگائے جاتے ہیں۔ سینیٹر سعیدہ اقبال نے کہا تمام شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔
سینٹ/ چیئرمین