فوجی عدالتیں : قومی اسمبلی میں خورشید شاہ کی حمایت سانحہ پشاور پر بحث شروع‘ چودھری نثار کا پالیسی بیان نہ آنے پر اپوزیشن کا احتجاج

فوجی عدالتیں : قومی اسمبلی میں خورشید شاہ کی حمایت سانحہ پشاور پر بحث شروع‘ چودھری نثار کا پالیسی بیان نہ آنے پر اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز+ آن لائن + صباح نیوز) قومی اسمبلی میںقائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے دہشت گردوں کے ٹرائل کیلئے فوجی عدالتوں کے قیام کی تجویز کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہر وہ اقدام کیا جائے جس سے اس ناسور سے ملک و قوم کو نجات مل جائے اور قوم محفوظ ہوجائے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں سانحہ پشاور پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی کو معطل کردیا گیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے بحث کرنے کی تحریک پیش کی۔ خورشید شاہ نے کہا دہشت گردی کیخلاف اتفاق رائے سے قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے ایسی متضاد باتیں نہ کی جائیں جس سے ہم تقسیم ہو جائیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملٹری کورٹس بنانی ہیںتو بنائی جائیں، ہم چاہتے ہیں بچے محفوظ ہوں، ملک دشمنوں کو پارلیمنٹ سے سخت پیغام دینا ہے۔ سب ادارے، قوم اس نکتے پر متفق ہیں، پاکستان قائم دائم ہے تو ہم ہیں۔ ایوان کو آگاہ کیا گیا سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو بین الاقوامی پارلیمانی یونین سمیت 11 ممالک کے سپیکرز و چیئرمینوں نے سانحہ پشاور پر تعزیتی خطوط بھجوائے ہیں۔ ایوان میں سانحہ پشاور، سیالکوٹ ورکنگ باﺅنڈری پر بھارتی فائرنگ سے دوفوجی جوانوں کی شہادتوں، کراچی لاہور میں آتشزدگی سمیت دیگر واقعات میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ سپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا پشاور کے اندوہناک سانحے میں 143 بچے شہید ہوئے۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا اے پی سی میں خصوصی عدالتوں کے قیام کےلئے آئین میں ترمیم کی کوئی بات نہیں ہوئی، تمام جماعتوں کا فوجی ایکٹ میں ترامیم پراتفاق ہوا۔ اے پی سی میں صرف یہ طے ہوا تھا خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں، یہ خصوصی عدالتیں دہشت گردوں اور انکی مالی امداد کرنیوالوں کیخلاف مقدمات سنیں گی۔ آئی این پی کے مطابق خورشید شاہ نے کہا دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ملک میں ملٹری کورٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، آئین کی بجائے آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کرکے فوجی عیدالتیں قائم کی جائیں، آئین میں ترمیم کرکے ان عدالتوں کا قیام خطرناک ہو سکتا ہے۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق قومی اسمبلی کو مطلع کیا گیا ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے کیلئے ایک ترمیمی معاہدہ پر بات چیت چل رہی ہے محمد مزمل قریشی کے سوال کے تحریری جواب میں وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے بتایا گیا موجودہ حکومت نے اس منصوبہ کی متبادل حکمت عملی کی منظوری دی ہے اور چین کے ساتھ بھی ایک معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے ایران کو منصوبہ کی چھتیس ماہ میں تکمیل کی تجویز دی ہے۔ ایران نے منصوبہ کے ضمن میں کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی اور بات چیت چل رہی ہے۔ وزیر دفاع نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا آپریشن ضرب عضب کے دوران تین افسران، آٹھ اور ایک سو پنتالیس سپاہیوں سمیت ایک سو چھپن فوجی اہلکار شہید ہوئے جبکہ اکیس افسران، تیرہ جے سی اوز پانچ سو چھیالیس سپاہیوں سمیت کل سات سو چھتیس اہلکار زخمی ہوئے۔ اس دوران ایک ہزار سات سو بیالیس دہشت گرد مارے گئے۔ ایوان میں آرمی پبلک سکول پشاور کے شہداءرکن اسمبلی پروین مسعود بھٹی کے شوہر، رکن اسمبلی شیخ وسیم اختر کی والدہ، سیالکوٹ میں شہید ہونے والے دو رینجرز اہلکاروں اور بونیر میں شہید ہونے والے تین پولیس اہلکارویں سمیت کراچی، لاہور، لاڑکانہ کے حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سپیکر کے کہنے پر ڈاکٹر غازی گلاب جمالی نے ایوان میں فاتحہ خوانی کرائی۔ بعدازاں جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان کی نشاندہی پر بونیر میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ آن لائن کے مطابق قومی اسمبلی مےں وزےرداخلہ چوہدری نثار کا سانحہ پشاور پر پالےسی بےان نہ آنے پر اپوزےشن لےڈر سمےت حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج کیا، خورشید شاہ نے کہا حکومتی بنچوں پر صرف ”معصوم وزےر“ شےخ آفتاب ہےں، حق ےہ تھا وزےر داخلہ اےوان کو اعتماد مےں لےتے، اےسی غےر سنجےدگی کے عالم مےں اجلاس کی کارروائی نہےں چل سکتی، اجلاس ملتوی کےا جائے۔ سپےکر نے اجلاس ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا اےک خطےر رقم اجلاس پر خرچ ہوتی ہے ملتوی نہےں کرسکتے۔محمود خان اچکزئی نے کہا ”معصوم“ کا لفظ صرف انبےاءکےلئے استعمال ہوتا ہے ےہ معصوم نہےں بےکار لوگ ہےں۔ وفاقی وزےر رانا تنوےرحسین نے کہا اپوزےشن پارلےمنٹ کو مذاق نہ بنائے، پوائنٹ سکورنگ کی بجائے ےکجہتی کا مظاہرہ کےا جائے، خورشید شاہ نے کہا جب تک وزےر داخلہ پالےسی بےان نہ دےں اس وقت تک اس بحث کو م¶خر کردےا جائے۔ نکتہ اعتراض پر ہی جماعت اسلامی کے پارلےمانی لےڈر انجےنئر طارق اللہ، صاحبزادہ ےعقوب نے بھی اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کےا۔ اےم کےو اےم کے پارلےمانی لےڈر عبدالرشید گوڈےل نے کہا وزراءکو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
قومی اسمبلی / خورشید شاہ