فوجی عدالتیں: حکومت آئینی ترمیم اور قانون سازی کے جھنجھٹ میں پڑ گئی

اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت، فوجی افسروں پر مشتمل عدالتوں کے قیام کے سلسلے میں آئینی ترمیم اور قانونی سازی کے ”جھنجھٹ“ میں پھنس گئی ہے جس کے باعث جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئینی ترمیم آسکی اور نہ ہی آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے ایوان میں کوئی بل متعارف کرایا جاسکا۔ نواز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے سیاسی، پارلیمانی جماعتوں کی آج تیسری کانفرنس طلب کرلی ہے جس میں ایک بار پھر سیاسی و عسکری قیادت سرجوڑ کر بیٹھے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے فوجی افسروں کی سربراہی میں عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم تیارکی ہے جس پر لیگل ٹیم کے اجلاس میں اتفاق رائے حاصل نہیں کیا جاسکا۔ اعتزاز احسن اور حامد علی خان نے حکومت کو ایک نئی راہ دکھائی ہے۔حکومت یہ سمجھتی ہے کہ آرمی ایکٹ کا دائرہ بڑھانے کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایکشن پلان کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں سیاسی قیادت کو ایک بار پھر عسکری قیادت کے ساتھ بٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جمعرات کو کور کمانڈرز کا اجلاس اس لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے کہ فوج کے اعلامیہ میں سیاسی جماعتوں کو واضح پیغام دیدیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف وسیع سیاسی اتفاق رائے کو چھوٹے چھوٹے اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہئے۔ اس پیغام میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک مزید ہنگامہ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
آئینی ترمیم