تیل پر جی ایس ٹی میں اضافہ جگا ٹیکس ہے : اپوزیشن ارکان‘ سینٹ‘ قومی اسمبلی میں احتجاج‘ واک آﺅٹ

اسلام آباد (وقائع نگار+ این این آئی) وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے حکومت نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران پٹرول اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 27 فیصد، کیروسین آئل 25، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 21 فیصد کمی کی ہے۔ وزیر خزانہ نے ایوان بالا کو بتایا جی ایس ٹی میں اضافہ آپریشن ضرب عضب اور ریپڈ فورس کی تشکیل کیلئے ہرگز نہیں کیا گیا بلکہ حالیہ آٹھ ماہ میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر دی گئی 68 ارب روپے کی سبسڈی سے پیدا ہونے والے بجٹ خسارے کو دور کرنے کیلئے کیا گیا ہے جو خسارہ پورا ہونے کے بعد ختم کر دیا جائیگا۔ جی ایس ٹی کے خلاف درخواستیں سپانسرڈ ہیں، یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے، گزشتہ حکومت بھی اسی طرح ایس آر اوز کے ذریعے ٹیکس عائد کرتی رہی، یہ کوئی پہلی بار پریکٹس نہیں کی گئی، اپوزیشن اس معاملے کو معمول کے طور پر لے۔ انہوں نے کہا حکومت کو صرف پٹرولیم مصنوعات پر عائد جی ایس ٹی سے آمدن حاصل ہوتی ہے۔ قیمتوں کے اتار چڑھاﺅ کا اختیار صرف نیپرا کو حاصل ہے۔ قبل ازیں ایوان بالا میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی میں پانچ فیصد اضافے کے فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ رضا ربانی نے کہا حکومت کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 77 کی روشنی میں دیئے گئے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا یہ منی بل ہے ایکٹ آف پارلیمنٹ نہیں ہے۔ ایوان سے درخواست ہے جی ایس ٹی کے قانونی پہلوﺅں کے حوالے سے روشنی ڈالنے کیلئے پیر تک کی مہلت دی جائے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا عدالتی فیصلے سے قبل یہ ایوان اس معاملے پر اپنی رولنگ دے، جب قیمت بڑھی ہے تو فوری طور پر بڑھا دیتے ہیں، اب کمی ہو رہی ہے تو کمی میں لیت و لعل کیوں کر رہے ہیں۔ اب تک 56 فیصد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم حکومت نے اس تناسب سے قیمت کم نہیں کی۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بھی حساب دے۔ انہوں نے کہا جی ایس ٹی میں اضافہ جگا ٹیکس ہے جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔ سنیٹر زاہد خان نے کہا آپریشن ضرب عضب اور ریپڈ فورس کیلئے حکومت پیسے پٹرولیم مصنوعات پر عائد زائد ڈیوٹی سے حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ سنیٹر کلثوم پروین نے کہا گزشتہ دور میں جب پٹرولیم لیویز بڑھائی گئی تھی تو اسحاق ڈار نے اس کی مخالفت کی تھی اب وہ کس طرح اسے بڑھا رہے ہیں۔ سینیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا اسحاق ڈار بڑے خوبصورت اور ماہر معیشت دان ہیں اور اسی خوبصورتی سے چھریاں بھی چلاتے ہیں۔ انہوں نے وزیر خزانہ کو پیشکش کی وہ یہ یقین دہانی کرائیں جب خسارہ پورا ہوا تو اضافی جی ایس ٹی واپس لیں گے۔ سنیٹر جہانگیر بدر نے کہا یہ کسی فرد واحد کو ٹیکس نافذ کرنے کا ہرگز اختیار نہیں۔ این این آئی کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے پٹرولیم مصنوعات پر پانچ فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف سینٹ سے واک آﺅٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کالا ٹیکس ہے جو نامناسب ہے۔ سنیٹر رضا ربانی نے پانچ فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ کالا ٹیکس نامناسب ہے۔ ہم ٹیکس کے خلاف ایوان سے واک آﺅٹ کرتے ہیں جس کے بعد اپوزیشن جماعتیں واک آﺅٹ کر گئیں۔ وفاقی وزیر اسحاق ڈار نے جواب دیتے ہوئے کہا جی ایس ٹی میں اضافہ عارضی ہے، قیمتیں بڑھنے کی صورت میںاضافہ واپس لے لیا جائے گا، آپریشن ضرب عضب پر اب تک 30 ارب روپے اضافی خرچ ہو چکے ہیں، ہمیں آئی ڈی پیزکی واپسی اور آپریشن زدہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کےلئے ایک ارب ڈالردرکار ہیں۔ اسحاق ڈارنے کہا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو 4 سو ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 2 روپے 32 پیسے فی یونٹ کمی کی ہے اوراس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح 11 سال میں کم ترین سطح پر ہے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے باعث جہاں عوام کو ریلیف ملا وہیں اس کی وجہ سے ملک کے جاری کھاتوں کے خسارے میں کمی ہوئی تاہم حکومت کو قرضوں پر سود اور قسطیں بھی دینی ہوتی ہیں اس کے ساتھ محصولات میں کمی بھی ہو رہی ہے جسے بڑھانے کےلئے قانون کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے اگر حکومت جی ایس ٹی کا نفاذ نہیں کرےگی تو ترقیاتی اخراجات کم کرنا پڑیں گے۔
سینٹ/ ٹیکس


اسلام آباد( سٹاف رپورٹر+این این آئی)قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر 5 فیصد جنرل ٹیکس کے اضافے کےخلاف پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آﺅٹ کیا جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے ایوان میں سیلز ٹیکس نامنظور کے نعرے لگائے گئے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے قیمتیں بڑھیں تو کہا جاتا ہے اوگرا اضافہ کرتا ہے کم ہوں تو کہا جاتا ہے حکومت نے ریلیف دیا۔ پٹرولیم پر سیلز ٹیکس کا اضافہ قابل قبول نہیں قیمتیں بڑھا دی جائیں سیلز ٹیکس نہ بڑھایا جائے۔ خورشید شاہ نے پٹرولیم مصنوعات پر 5 فیصد جی ایس ٹی کے اضافے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سیلز ٹیکس میں اضافہ غیرآئینی ہے جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی اور پارلیمنٹ بھی حکومت کے غیر آئینی اقدامات کا تحفظ نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا بے شک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دیں مگر اضافی جی ایس ٹی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ کہا جاتا ہے یہ وزیراعظم کی جانب سے قوم کیلئے تحفہ ہے۔ یہ عجیب تحفہ ہے حکومت 4 روپے تیل کی قیمت کم کر کے 5 روپے سیلز ٹیکس لے رہی ہے۔ ہمارے دور میں سیلز ٹیکس کو جگا ٹیکس کہنے والے اب کہاں ہیں؟ حکومت سیلز ٹیکس کی مد میں پٹرولیم مصنوعات پر عوام سے 110 روپے وصول کر رہی ہے لیکن عوام کے مسئلے پر آج کوئی ایوان میں آنے کو بھی تیار نہیں۔ قیمتیں بڑھانے کا اختیار اوگرا کو ہے حکومت کو نہیں، حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کا احسان عوام پر نہ کرے، جنرل سیلز ٹیکس 17 سے 22 فیصد کرنا عوام کیساتھ نا انصافی ہے۔ ہمارے دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل تھی مگر ہم نے سیلز ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا قیمتیں بڑھا دیں مگر سیلز ٹیکس نہیں بڑھایا۔ اب قیمتیں 54 ڈالر فی بیرل ہے مگر عوام کو ریلیف نہیں دیا گیا۔ نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے کہا حکومت اپنی نااہلی کا بدلہ غریب عوام سے لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت ٹیکس لینے کے قابل نہیں اور غریبوں پر چھری پھیر رہی ہے۔ وزارت خزانہ کی نااہلی کی سزا غریب عوام کو دی جا رہی ہے جو قبول نہیں کرینگے، غریب عوام کے گلے پر چھری نہیں چلنے دینگے۔صباح نیوز کے مطابق قائد حزب اختلاف نے جی ایس ٹی میں 5 فیصد اضافے کیخلاف واک آ¶ٹ کا اعلان کیا تو پیپلزپارٹی‘ متحدہ‘ جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے اور ایوان اپوزیشن کے ”ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘ جگا ٹیکس نامنظور‘ جی ایس ٹی نامنظور“ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ آئی این پی کے مطابق حکومت کے بڑے حلیف محمود خان اچکزئی بھی واک آ¶ٹ میں شامل تھے۔

قومی اسمبلی/ سیلز ٹیکس