اپنا روزگار سکیم‘ بینک آف پنجاب کا حکومتی فارمولا ماننے سے انکار

لاہور (معین اظہر سے) حکومت پنجاب کی اپنا روزگار سکیم جس میں کیری ڈبے اور سوزوکی لوڈر دئیے جانے ہیں، ان پر بنک آف پنجاب نے حکومت پنجاب کا فارمولا ماننے سے انکار کردیا ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سکیم کی خاطر برج فنانسنگ کیلئے رقم دی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس سکیم کیلئے K پلس 2 فارمولے کے تحت گاڑیوں کا مارک اپ دینے کی منظوری دی تھی۔ پراجیکٹ کمیٹی نے بنک آف پنجاب کی بات مانتے ہوئے برج فنانسنگ کیلئے 2 ارب 40 کروڑ روپے دینے کے لئے کیس وزیر اعلی پنجاب کو بھیجا ہے اس میں انٹر بنک ریٹ پلس 2 فیصد سے کم کر کے اسے 1.5 فیصد کر دیا ہے۔ حکومت پنجاب نے اپنا روزگار سکیم شروع کی تھی جس میں ڈبے اور لوڈر وین کے لئے درخواستیں مانگی تھیں حکومت پنجاب کو تقریبا 50 ہزار درخواستیں ملی ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے چیئرمین پی اینڈ ڈی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جس کے دیگر ارکان میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری انرجی ، سیکرٹری خزانہ ، ایم پی اے شیخ علاؤالدین، سیکرٹری ٹرانسپورٹ ، صدر بنک آف پنجاب، سیکرٹری اطلاعات پنجاب، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ شامل ہیں۔ حکومت پنجاب نے ان گاڑیوں پر قسطوں کے علاوہ جو مارک اپ اپنے پاس سے اد ا کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے اس پر بنک آف پنجاب کی طرف سے روز گار سکیم پر برج فناسنگ کا مطالبہ کیا وزیر اعلی پنجاب نے اسے ماننے سے انکار کرتے ہوئے کے پلس 1.5 (انٹر بنک ریٹ پلس دو فیصد) سکیم کے تحت بنک آف پنجاب کو دینے کی منظوری دی۔ بنک آف پنجاب نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔ چیف سیکرٹری ، اور چیرمین بنک نے وزیر اعلی کو درخواست دی کہ وہ انٹر بنک ریٹ وہ فراہم کرنے 2 فیصد گاڑی لینے والے افراد سے مارک اپ لیا جائے وزیر اعلی پنجاب نے اس پر بھی انکار کر دیا اس کے بعد بنک آف پنجاب نے پھر برج فناسنگ کا مطالبہ کیا جس پر چیف سیکرٹری پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب کو k  پلس 2 فیصد پر بنک کو دینے کے لئے راضی کر تے ہوئے اس کی منظوری لے لی۔ کمیٹی کی میٹنگ میں بنک آف پنجاب کے چیئرمین نے اسے ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ برج فناسنگ حکومت پنجاب کو اس سکیم کے لئے کرنا پڑے گی جس پر کمیٹی نے نیا فارمولا طے کیا جس کے تحت حکومت پنجاب اس سکیم پر برج فنانسنگ کے لئے 2 ارب 40 کروڑ روپے کی قسط بنک کو ادا کرے گی اس کے بعد k پلس 2 کی بجائے k پلس 1.5  مارک اپ حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ کیس وزیر اعلی پنجاب کو منظوری کے لئے بھجوا دیا گیا ہے۔ اگر وزیراعلی پنجاب نے منظوری نہ دی تو سکیم کے تحت گاڑیاں لیٹ ہونے کے امکانات ہیں یا سکیم ختم بھی ہو سکتی ہے۔