اب دھرنوں، احتجاج کی گنجائش نہیں، سرکاری حلقوں میں کورکمانڈرز کانفرنس کی تشریح

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) ایک طرف اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا روکھا پھیکا اجلاس چل رہا تھا تو دوسری جانب جی ایچ کیو راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس اس سے کچھ دیر پہلے ہی ختم ہوئی تھی۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں سانحہ پشاور پر بحث ہوئی لیکن بیشتر ایوان خالی تھا اور اس سانحہ عظیم کے غم اور سوگ کی جھلک تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ نماز مغرب کے بعد کی کارروائی میں خبر والی کوئی بات نہیں تھی لیکن کور کمانڈرز کانفرنس میں بہرحال خبر موجود تھی۔ کانفرنس کے اختتام پر پانچ پیراگراف کے بیان میں بیشتر جملوں کا روایتی انداز میں اعادہ کیا گیا تھا لیکن اس بیان کے چوتھے پیراگراف کی آخری چار سطور میں کہا گیا انسداد دہشت گردی کیلئے درکار وسیع تر قومی مفاد حاصل کرلیا گیا اور امید ہے یہ اتفاق رائے معمولی ایشوز کی نذر نہیں ہوگا۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے اس بیان کے مخاطبین سے کہا گیا ہے اب انسداد دہشت گردی ہی ہر سطح پر اوّلین ترجیح ہونی چاہئے، انتظامی اور سیاسی تنازعات کہیں اس ترجیح کو متاثر نہ کریں۔ سرکاری حلقوں میں اس بیان کی یہ تشریح کی جا رہی ہے انسداد دہشت گردی کیلئے قومی ایکشن پلان کے دوران اب دھرنوں، احتجاج اور افراتفری پیدا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور فوج کے اس پیغام سے حکومت مزید مضبوط ہو گی جو پچھلے ماہ ہی دھرنوں کے دباﺅ سے قدرے آزاد ہوئی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے بھی ظاہر ہو رہا تھا حکومت اب خود کو زیادہ پراعتماد محسوس کر رہی ہے اور موجودہ اجلاس کے پہلے روز سرکاری بنچوں پر خال خال ہی ارکان دکھائی دے رہے تھے اور اپوزیشن بنچوں کی صورتحال بھی قابل رشک نہیں تھی۔
دھرنے / گنجائش