ڈرون حملوں کے ہوتے ہوئے ہی طالبان سے مذاکرات کرنا ہوں گے: حاجی عدیل

اسلام آباد (آئی این پی) عوامی نیشنل پارٹی کی عبوری صدر سینیٹرحاجی محمد عدیل نے کہا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی بحالی کے لئے وزیر اعظم کو مولانا سمیع الحق کے ساتھعمران خان، مولانا فضل الرحمٰن اور منور حسن پرمشتمل  چار رکنی ٹیم بھیجنی چاہیے، ڈرون حملوں کے ہوتے ہوئے  ہی طالبان سے مذاکرات کرنا ہوں گے، ڈرون حملے حقیقت بن چکے تسلیم کرنا ہوگا، اقوام متحدہ سمیت کوئی ادارہ  امریکی ڈرون حملے نہیں رکوا سکتا۔ وہ بدھ کو ’’آئی این پی‘‘ سے گفتگو کر رہے تھے۔ سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ وزیر اعظم طالبان سے مذاکرات سمیت دیگر معاملات میں انتہائی مایوسی کے عالم میں  لگتے  ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کی بحالی کے لئے حکومت کو پہلے ہی آغاز کر دینا چاہیے تھا تاہم اب بھی زیادہ دیر نہیں گزری اس لئے مذاکرات کی بحالی کے آغاز کے عمل کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے۔ قوم کو امن کی سخت ضرورت ہے امید ہے طالبان سے مذاکرات دوبارہ ٹریک پر آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ اور القاعدہ کے درمیان جاری جنگ ختم نہیں ہوتی تب تک ڈرون حملے بند نہیں ہو سکتے اور ان حملوں کو رکوانے کے لئے اقوام متحدہ سمیت دنیا کے دیگر ادارے اور ممالک اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور بد امنی، لوڈشیڈنگ سمیت دیگر مسائل نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے اور حکمران ان مسئلوں کو دیکھ کر سٹپٹا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے نئے سال میں حکومت اپنی کنفیوژن ختم کر کے عوامی مسائل حل کرے گی۔