سنی اتحاد کونسل، مجلس وحدت مسلمین کا دہشت گردی کیخلاف قومی کانفرنس بلانے کا اعلان

اسلام آباد+ کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی) سنی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت مسلمین نے دہشت گردی کیخلاف 5 جنوری کو قومی امن کانفرنس کا  اعلان کیا ہے اور حکومت کی طرف سے طالبان سے مذاکرات کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے تحت کسی بھی نجی ملیشیا یا دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ اس معاملہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، 5 جنوری کو اسلام آباد میں قومی امن کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ بدھ کو یہاں پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت المسلمین کے رہنما ناصر عباس شیرازی  اور  سینیٹر فیصل رضا عابدی نے کہا کہ حکومت نے طالبان کو سیاسی دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں، دہشت گردی میں 70ہزار سے زائد لوگوں نے جانیں دیں، ورثاء کسی صورت مذاکرات کو نہیں مانتے۔  حکومت ملک میں طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ عوامی طاقت سے طالبان کا راستہ روکیں گے۔ سمیع الحق طالبان کے باپ ہیں حکومت نے ان سے رجوع کیا ہے۔ بندوق کی نوک پر اپنی سوچ مسلط کرنے والوں سے جنگ کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پنجاب دہشت گردوں کو تحفظ دے رہی ہے۔ میلاد کے جلوسوں کے لئے سیکورٹی کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا جبکہ کالعدم تنظیموں کے جلسوں کو مکمل سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ربیع الاول میں اگر کسی جلوس کو نشانہ بنایا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔