لال مسجد کمشن کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش‘ پبلک کرنے یا نہ کرنیکا فیصلہ بعد میں کرینگے : چیف جسٹس

لال مسجد کمشن کی سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش‘ پبلک کرنے یا نہ کرنیکا فیصلہ بعد میں کرینگے : چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن + اے پی اے) سپریم کورٹ میں لال مسجد کمشن کی سربمہر رپورٹ پیش کی گئی اور سپریم کورٹ نے لال مسجد آپریشن کی عدالتی کمشن کی رپورٹ خفیہ رکھنے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی، یہ استدعا کمشن کے سربراہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شہزاد الشیخ نے کی تھی ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔ لال مسجد انتظامیہ کی طرف سے طارق اسد ایڈووکیٹ پیش ہوئے چیف جسٹس نے طارق اسد کو بتایا کہ لال مسجد آپریشن کے حوالے سے کمشن کی رپورٹ آچکی ہے ہم چاہتے ہیں کہ اس کا چیمبر میں جائزہ لیں کیونکہ کمشن نے استدعا کر رکھی ہے کہ اس رپورٹ کو خفیہ رکھا جائے طارق اسد نے کہا کہ مشرف باہر چلا گیا تو ہم سمجھیں گے کہ سب ملے ہوئے ہیں ۔ عدالت نے ان کی اس بات پر کہا کہ یہ متعلقہ عدالت کا معاملہ ہے وہی اس کے بارے میں بہتر بتا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس رپورٹ کو پبلک کرنے کے حوالے سے فیصلہ عدالت عظمیٰ رپورٹ پڑھنے کے بعد کرے گی۔ واقعہ کی تحقیقات کے لئے وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس شہزاد الشیخ کی سربراہی میں یک رکنی کمشن تشکیل دیا گیا تھا۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے وکیل طارق اسد نے سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے کمشن کے آگے پیش نہ ہونے اور بیان ریکارڈ نہ کرانے سے متعلق عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس وقت ملک میں ہیں ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے انہیں عدالت میں طلب کرکے بیان ریکارڈ کرایا جائے وہ واقعہ کے مین کردار ہیں، کمشن کی رپورٹ خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ تمام گواہوں کے بیانات کھلے عام ریکارڈ ہوئے جبکہ حساس خفیہ اداروں کی جانب سے کسی نے بھی پیش ہو کر بیان ریکارڈ نہیں کرایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کا نام سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی ای سی ایل میں ڈال چکی ہے رپورٹ کے پبلک کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ عدالت چیمبر میں رپورٹ پڑھنے کے بعد کرے گی۔ پیش کی گئی رپورٹ کے دو لفافوں کو خفیہ رکھنے کی سفارش کی گئی تھی طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا مشرف کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا جائے اور ان سے بیان ریکارڈ کرایا جائے۔ رپورٹ خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں عدالت نے قرار دیا کہ وہ ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتی۔ مقدمہ کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی گئی۔
لال مسجد