شریعت کورٹ با اختیار آئینی عدالت ہے‘ فیصلوں کےخلاف اپیل نہیں ہو سکتی: سپریم کورٹ

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ شریعت کورٹ مکمل بااختیار آئینی عدالت ہے‘ سپریم کورٹ میں شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔ پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں 8 رکنی لارجر بنچ نے کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے کہا شریعت کورٹ مکمل بااختیار آئینی عدالت ہے سپریم کورٹ میں شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف بطور عدالت اپیل نہیں جا سکتی۔ جسٹس جواد نے دوران سماعت ریمارکس دئیے کہ ججوں کے فیصلوں کو 8 رکنی بنچ تبدیل کر سکتا ہے‘ پانچ ججز کا فیصلہ کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہوتا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا شریعت کورٹ مکمل بااختیار آئینی عدالت ہے۔ سپریم کورٹ میں شریعت کورٹ کے فیصلوں کے خلاف بطور عدالت اپیل نہیں جا سکتی جس پر کمیونسٹ پارٹی کے وکیل نے دلائل دیئے شریعت کورٹ کی آئین کی تشریح کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ شریعت کورٹ کے فیصلوں کے بعد یہ تصور بھی قائم نہیں کیا جا سکتا کہ تمام راستے بند ہو گئے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریمارکس دیئے بند راستہ کھولنے کیلئے اسی دائرہ سماعت میں جانا ہو گا جہاں سے راستہ بند ہوا۔
شریعت کورٹ/ بااختیار