پروفیسر سلمان حیدر و دیگر کیخلاف توہین مذہب و توہین رسالت کے ارتکاب پر مقدمہ درج

اسلام آباد(وقائع نگار خصوصی)ایف آئی اے نے پروفیسر سلمان حیدر و دیگر کے خلاف مبینہ طور پر سوشل میڈیا میں توہین مذہب و توہین رسالت کے ارتکاب پر رپورٹ درج کرلی،ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نعمان اشرف بودلا نے مقدمے کے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ سلمان حیدر و دیگر کوکل(بدھ کو)تھانہ ایف آئی اے میں طلب کرکے شامل تفتیش کیا جائے اور انہیں پابند کیا جائے مقدمے کی تحقیقات مکمل ہونے تک وہ پاکستان سے باہر نہ جائیں،ایف آئی اے مذکورہ کاروائی شہداءفاﺅنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد)کی جانب سے موصول ہونے والی درخواست پر عمل میں لائی ہے،ایف آئی اے اندراج رپورٹ کے بعد اندراج مقدمہ اور تفتیش کے لئے باضابطہ اجازت کل(بدھ کو)جوڈیشل مجسٹریٹ عبدالغفور کاکڑ سے لے گی۔تفصیلات کے مطابق شہداءفاﺅنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد)نے پروفیسر سلمان حیدر سمیت پانچ بلاگرز کے خلاف توہین مذہب و توہین رسالت کا مقدمہ درج کرنے کے لئے درخواست تھانہ ایف آئی اے اقبال ٹاﺅن اسلام آباد میں جمع کروی۔درخواست ترجمان شہداءفاﺅنڈیشن حافظ احتشام احمد نے جمع کروائی۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے مظہرالحق کاکاخیل کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ”پروفیسر سلمان حیدر،وقاص احمد گورایا،عاصم سعید،ثمر عباس اور احمد رضاءکے لاپتہ ہونے کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد مختلف ٹی وی چینلز و اخبارات کے ذریعے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ افراد سوشل میڈیا پر بھینسا،موچی اور روشنی کے نام سے پیجز میں نہ صرف ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے تھے بلکہ انہوں نے توہین مذہب،توہین اللہ رب العزت،توہین رسالت ،توہین امہات امﺅمنین،توہین اصحاب رسول اور توہین شعائر اسلام کا بھی ارتکاب کیا،قابل غور بات یہ ہے کہ پروفیسر سلمان حیدر سمیت مذکورہ بلاگرز کے لاپتہ ہونے کے فوراََ بعد سے سوشل میڈیا پر توہین آمیز پوسٹ کا سلسلہ بند ہوگیا اور انہیں توہین آمیز پیجز میں یہ پوسٹیں کی گئیں کہ مذکورہ افراد ہی توہین مذہب و توہین رسالت کا ارتکاب کررہے تھے،مذکورہ افراد کے اس اقدام سے کروڑوں پاکستانی مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی اور ان میں اشتعال پیداءہوا،مذکورہ شرمناک اقدام کا مقصد ملک کو انتشار و اشتعال کا شکار کرنا بھی تھا،لہٰذا تمام حقائق واقعات کی روشنی میں ایف آئی اے فوری طور پر توہین آمیز پیجز چلانے والوں کے خلاف دفعہ 295سی اور انسداد دہشت گردی کی دفعہ سات سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی عمل میں لائے۔