پاکستان کی نصف آبادی کو تعلیم سے روکنا جرم ہے: وزیراعظم

پاکستان کی نصف آبادی کو تعلیم سے روکنا جرم ہے: وزیراعظم

 اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کیلئے تعلیم کا حصول بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان کی نصف آبادی خواتین کو تعلیم سے روکنا جرم ہے، خواتین تعلیم سے مالا مال ہوں گی تو ملک میں ترقی کے راستے کھلتے جائیں گے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ڈیجیٹل تعلیم نے جو ترقی کی ہے اس سے دنیا سمٹ کرگلوبل ویلج بن گئی ہے۔ ہماری بیٹیاں زیور تعلیم سے آراستہ ہوں گی تو ان کے لئے ترقی کے روشن راستے ہوں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے بارہویں کانووکیشن سے خطاب میں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی نے تعلیم کی جستجو میں خدمات انجام دیں، بےنظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو نے خواتین کی ترقی کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ جمہوری حکومت نے بھی خواتین کو زیادہ حقوق دلوانے کیلئے پارلیمنٹ سے 24 بل منظور کرائے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے کمربستہ ہیں۔ علاوہ ازیں ق لیگ کے صدر شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید جو کہ سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین بھی ہیں نے وزیراعظم کو رپورٹ پیش کی۔ چائنہ انوسٹمنٹ کارپوریشن کے صدر گاﺅچی پنگ سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین سدابہار دوست ہیں۔ ہم پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے چین کی مسلسل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔