مسلم لیگ ن کا کراچی میں بجلی چوری پر قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شدید احتجاج

اسلام آباد (آ ن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کا اجلاس ہوا جس میں کراچی میں بجلی چوری پر مسلم لیگ ن کے رکن کمیٹی نے شدید احتجاج کیا اور کہا کہ شہر قائد میں 2لاکھ افراد کو غیر قانونی کنکشن دیئے گئے، یہ ملک چند لوگوں کا نہیں 18کروڑ عوام کا ہے، اجلاس میں عابد شیر علی پھٹ پڑے، سپیشل سیکرٹری حمایت اللہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایاکہ مہنگی بجلی پیدا کرکے سستی نہیں بیچ سکتے، بجلی کی ہر تقسیم کار کمپنی خسارے میں جارہی ہے، نندی پور پن بجلی منصوبہ وزارت پانی و بجلی کی سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا، کیس زیر سماعت ہے مزید تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، نندی پور پراجیکٹ پر مکمل بریفنگ کےلئے تیار ہیں، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید غلام مصطفی شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں ارکان کمیٹی سمیت وزارت پانی و بجلی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیسکو اور میپکو کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیاگیا۔ وزارت پانی و بجلی کے سپیشل سیکرٹری حمایت اللہ خان نے بریفنگ میں کہاکہ کراچی میں بجلی چوری کے اثرات کے ای ایس سی پر پڑتے ہیں اس کا وزارت پانی و بجلی سے کوئی تعلق نہیں۔ کے ای ایس سی کو 650 میگاواٹ بجلی فراہم کرتے ہیں اس کی پوری قیمت وصول کرتے ہیں دنیا میں مہنگی ترین بجلی تیل سے پیدا ہوتی ہے گیس کی قلت کے باعث ہمیں بھی ڈیزل سے بجلی پیدا کرنا پڑتی ہے ڈیزل سے بجلی کی فی یونٹ لاگت 24 روپے آتی ہے جبکہ کوئلے سے چار روپے فی یونٹ اور گیس سے ساڑھے تین روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہورہی ہے پن بجلی ذرائع سے 3 روپے فی یونٹ بجلی پیدا ہورہی ہے۔ پن بجلی کے علاوہ دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی پر حکومت ساڑھے تین روپے فی یونٹ سبسڈی دے رہی ہے جس کے پیسے وزارت پانی و بجلی کو ہر سال بجٹ میں دیئے جاتے ہیں۔ 1970ءسے اب تک ہمارے پاس ہائیڈل پاور بجلی کی پیداواری صلاحیت ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ ہے جوہرسال 20دسمبر کے بعد کم ہوکر 1100 میگاواٹ پر آجاتی ہے۔ فیسکو کے چیف ایگزیکٹو نے کمیٹی کو بتایاکہ فیصل آباد ریجن میں ایک لاکھ پچیس ہزار بجلی کنکشنز میں سے چار ہزار کنکشنز بجلی چوری کرنے پر کاٹ دیئے گئے ہیں ۔بجلی کی ہرتقسیم کار کمپنی خسارے میں چل رہی ہے مہنگی بجلی لے کر سستی بجلی فروخت نہیں کی جاسکتی۔ فیصل آباد ریجن میں زیادہ تر صنعتی کنکشنز ہیں اور یہاں پر بجلی کے واجبات کی ریکوری بھی 100فیصد ہے۔ فیسکو ریجن میں لائن لاسز 11فیصد ہیں اور ٹرانسمشن لاسز 1فیصد ہیں۔ رکن کمیٹی عابد شیر علی نے استفسار پر سپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ نندی پور پن بجلی منصوبہ وزارت پانی و بجلی کی سست روی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا اس حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس پر مزید تبصرہ نہیں کیا جاسکتا جس پر عابد شیر علی نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ قوم کا اربو ں روپے وزارت کے افسران و دیگر حکام کی سست روی کے باعث ڈوب رہے ہیں۔ ذمہ داروں کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیاگیا جس پر سپیشل سیکرٹری حمایت اللہ خان نے بتایاکہ اس منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کا الگ سے اجلاس بلایا جائے ہم نندی پور منصوبے پر مکمل بریفنگ دینے کےلئے تیار ہیں ۔ قبل ازیں عابد شیر علی نے کمیٹی میں کہاکہ کراچی میں 2لاکھ غیرقانونی کنکشن ہیں یہ ملک چند لوگوں کا نہیں 18کروڑ عوام کا ہے۔ کراچی میں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کرے۔