سینٹ: صدر سے اظہار تشکر اور بلوچستان کے مسئلہ پر بحث کے لئے قراردادیں منظور

 اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نیوز ایجنسیاں) سینٹ میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے میانمار میں مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور او آئی سی سے اس کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ وزارت خارجہ سے اس پر قرارداد مذمت لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایوان نے صدر کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر اظہار تشکر اور بلوچستان کے مسئلے پر بحث کے لئے قراردادیں بھی منظور کر لیں۔ صدر کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان 17 مارچ 2012ءکو دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے صدر پاکستان کے خطاب پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔ قائد حزب اختلاف سینیٹر اسحاق ڈار، جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، ایم کیو ایم کے رہنما کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی، اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر زاہد خان نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دیا۔ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حیثیت سے ان مظالم کا نوٹس لینا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کے اقدامات بھی تاحال سامنے نہیں آئے۔ ایوان بالا میں متفقہ قرارداد کے لئے دفتر خارجہ اپنے م¶قف سے آگاہ کرے۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ او آئی سی بھی اپنی خاموشی کو توڑے۔ اے این پی، ایم کیو ایم نے بھی میانمار میں مسلمانوں کے قتل کی مذمت کی۔ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) دہشت گردی کے مکمل خاتمہ تک اس کے خلاف لڑے گی۔ بی این پی کی سینیٹر کلثوم نے کہا کہ میانمار کے مسلمانوں کا قتل عام پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ مسلمانوں کے قتل عام کی ہماری حکومت کو مذمت کرنی چاہئے اور وزارت خارجہ کو بھی اس پر آواز بلند کرنی چاہئے۔ سےنےٹر اسحاق ڈار نے صدارتی خطاب پر بحث کا موقع نہ دےنے پر شدےد احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ حکومت نے مجھے بحث سے باہر رکھنے کے لئے پہلے سے منظم منصوبہ بندی کر رکھی تھی جس پر چےئرمےن سےنٹ نے کہا کہ کبھی آدمی با¶نڈری پر کےچ آوٹ بھی ہو جاتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کےچ آوٹ نہےں ہوا مجھے گگلی کرائی گئی ہے۔ سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے علاوہ بھی بے شمار مسائل ہیں۔ شاہی سید نے کہا کہ پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات کروانا افسوسناک ہو گا۔ قائد ایوان جہانگیر بدر نے صدر کے خطاب پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ ہم مفاہمت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ اجلاس صرف ایک بندے کی خاطر بلوایا گیا ہے جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ سینیٹر حمزہ نے کہا کہ صدر ملک کے لئے ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے۔ قرضے لے کر ہم امریکہ کے غلام بن چکے ہیں۔ چند حکومتی و اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں عدلیہ اور پارلیمنٹ کے اختیارات پر بحث کروائی جائے۔ سینیٹر مختار نے کہا کہ اگر کوئی رکن ججز کے بارے میں کچھ کہتا ہے تو ججز بھی پارلیمنٹ کے بارے میں ریمارکس دیتے ہیں۔ متحدہ کے کرنل (ر) طاہر مشہدی نے کے ای ایس سی کی طرف سے بجلی کے بلوں میں اضافی وصولیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کے تمام پہلو¶ں پر بحث ہونی چاہئے۔ چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری اور قائد حزب اختلاف سینیٹر اسحق ڈار کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سینٹ میں بلوچستان پر بحث آج شروع ہو گی۔ آئی این پی کے مطابق چےئرمےن سےنٹ سےد نےئر حسےن بخاری نے پےپلز پارٹی کے ارکان کے مطالبے کے باجود پارلےمنٹ اور عدلےہ مےں سے کسی اےک کی بالادستی کے متعلق رولنگ دےنے اور ججز کے کنڈکٹ کے متعلق حکومتی رکن کے رےمارکس حذف کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس معاملہ پر اےوان مےں تفصےلی بحث کرانے کا فےصلہ کےا ہے۔ چیئرمین سےنٹ نے کہا کہ نکتہ اعتراض پر اس طرح رولنگ نہیں مانگنی چاہئے۔ ےہ معاملہ اےوان مےں زےر بحث لاےا جائے، پھر وزےر قانون اس کی آئےنی حےثےت بتائےں گے، جس کے بعد اس پر رولنگ دی جا سکتی ہے۔ سینیٹر سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ آئین ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کو ایوان میں زیر بحث لانے کی اجازت نہیں دیتا۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے نئی ووٹر لسٹوں سے فوت ہو جانے والے ڈیڑھ کروڑ ووٹرز کے اخراج کا مطالبہ بھی کیا۔ اجلاس آج صبح ساڑھے 10 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں حکومتی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے پارلیمنٹ کی بالادستی کے بارے میں رولنگ کے اجرا کے لئے سینٹ قومی اسمبلی میں دو الگ الگ قراردادیں جمع کرا دی ہیں۔ چیئرمین سینٹ سینیٹر نیئر حسین بخاری نے کہا کہ وہ ایوان بالا میں قرارداد پر بحث کے بغیر کیسے رولنگ جاری کر سکتے ہیں۔