بلوچستان کیس‘ ملک دشمنوں کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے: وکیل ایف سی‘ آپ لوگ پورا کر رہے ہیں: چیف جسٹس

بلوچستان کیس‘ ملک دشمنوں کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے: وکیل ایف سی‘ آپ لوگ پورا کر رہے ہیں: چیف جسٹس

 اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + اے پی اے) سپریم کورٹ نے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹنے کا حکم دے دیا۔ ایف سی کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی گئی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے جس کے لئے دو ماہ سے زائد کا وقت نہیں دیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں اپنے عبوری حکم نامے میں کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے صوبے میں امن و امان کے قیام کی یقین دہانی کروائی ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ پولیس، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کے لئے کوششیں کریں۔ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا میں ملوث افراد سے سختی سے نمٹا جائے۔ سپریم کورٹ نے بلوچستان بدامنی کیس میں ہفتہ وار جامع رپورٹ رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالتی آرڈر میں کہا گیا کہ ڈیرہ بگٹی کے لوگوں کو گھر جانے سے نہیں روکا جا سکتا، ڈیرہ بگٹی میں امن و امان کا قیام صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ایف سی چاہے تو 7 دن میں مسئلہ حل کر سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال آئے روز خراب ہوتی جا رہی ہے، لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور تاوان کے لئے لوگوں کو اغوا کیا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تعیناتی کے باوجود ملزموں کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔ اس ناکامی کے پیچھے سیاسی اور دیگر محرکات بھی شامل ہیں۔ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بلوچستان میں آئین کے نفاذ کی ذمہ داری وفاق اور صوبائی حکومت پر ڈالی جائے۔ آئی جی ایف سی، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکرٹری بلوچستان کا بیان عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ لاپتہ افراد کے لئے پولیس اور انتظامیہ کی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ تینوں کے مشترکہ بیان کو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل نے پیش کیا۔ آئی جی ایف سی، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور چیف سیکرٹری بلوچستان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ آئین کا نفاذ کریں گے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہو گا اور شہریوں کے درمیان تفریق نہیں ہو گی، فرقہ واریت پھیلانے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔ اس سے قبل چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو بیان دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کا کہنا تھا کہ اس وقت سکیورٹی کے لحاظ سے سب سے حساس علاقہ ڈیرہ بگٹی ہے۔ ملک کے 113 اضلاع میں ڈیرہ بگٹی کا سب سے آخری نمبر ہے جہاں خواندگی کی شرح صرف چھ فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور میڈیا کی ٹیم تشکیل دے دی ہے لیکن سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے اسے وہاں نہیں بھیجا جا رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی نو گو ایریا بن چکا ہے جہاں ایف سی کے قلعے میں لوگوں کو یرغمال رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ ڈیرہ بگٹی سے دیگر علاقوں میں ہجرت کر کے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی واپسی ممکن بنائی جائے۔ یہ نہ ہو ہمارے بچے وہاں جائیں اور ہم یہاں ان کی زندگی کے لئے فکرمند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ امن و امان ممکن بنائے۔ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کروایا جائے جس کے لئے دو ماہ سے زائد کا وقت نہیں دیا جا سکتا۔ آئی جی ایف سی نے اپنا م¶قف عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہماری کٹمنٹ ہے کہ امن و امان کو بہتر کیا جائے گا، شہریوں میں تفریق نہیں ہو گی، فرقہ واریت والوں کو کٹہرے میں لائیں گے، ہم پولیس و انتظامیہ کی مدد کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی میں غذا کی قلت ہے، وہاں کے لوگ سادہ اور اردو بولنے والے ہیں، ڈیرہ بگٹی میں امن و امان کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس موقع کو اچھے کام کے لئے استعمال کر لیں۔ وکیل ایف سی نے م¶قف اختیار کیا کہ ملکی سلامتی کے لئے کام کرنے والے اداروں کو بدنام کیا جا رہا ہے، ملک دشمنوں کا ایجنڈا پورا کیا جا رہا ہے، عدالت کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دئیے کہ یہ ایجنڈا آپ لوگ پورا کر رہے ہیں، عدالت تحمل کا مظاہرہ کیسے کرے۔ انتظامیہ کی پہلی ترجیح ڈیرہ بگٹی ہونی چاہئے تھی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے دو ماہ کی مہلت مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے بچے لا دو، ہمیں بتا دو، دو ماہ کی مہلت دے دیں گے، گڑبڑ کرنے والوں کا سب کو پتہ ہے، لوگوں کے مسائل حل کریں، بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی، آئندہ سماعت کوئٹہ میں ہو گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ عدلیہ بنیادی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، دیکھا جائے تو بلوچستان کے حالات 71ءسے کچھ مختلف نہیں۔