الاٹمنٹ، ٹھیکوں میں بے ضابطگیاں: سی ڈی اے کی کارکردگی پر پی اے سی کا عدم اطمینان

اسلام آباد (اے پی پی + آئی این پی) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے سی ڈی اے کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور ٹھیکوں میں بے ضابطگیوں سمیت ادارے کی مجموعی طور پر کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ غیر قانونی طریقہ کار کے تحت پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں ملوث افراد کیخلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے جبکہ آڈٹ حکام کو حکم دیا گیا ہے کہ ان تمام معاملات کی خصوصی جانچ پڑتال کی جائے اور ایف آئی اے سے بھی زیر التوا تحقیقاتی رپورٹ طلب کی جائے۔ اجلاس چیئرمین ندیم افضل چن کی زیر صدارت ہوا جس میں کابینہ ڈویژن اور سی ڈی اے کے زیر التوا آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے بتایا کہ سی ڈی اے کے پانچ ہزار مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، سی ڈی اے کی لیگل ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نہیں کیونکہ زیادہ تر مقدمات 10 سال پرانے ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے فرخند اقبال نے کہا کہ بطور چیئرمین چارج سنبھالنے کے بعد پچاس فیصد وکلا تبدیل کر دیئے ہیں، پہلے والے وکلاءمخالف پارٹیوں سے ملے ہوئے تھے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ سی ڈی اے 20 سال گزرنے کے باوجود بھی پلاٹ کی ریکوری کرنے میں ناکام رہا، گیارہ سال سے ایک پلاٹ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ پی اے سی نے چیئرمین سی ڈی اے کو ناپسندیدگی کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے پارک ٹاور ایف ٹین کی طرف سے سی ڈی اے کو پلاٹ کے 24 ملین روپے ادا نہ کرنے کا معاملہ تحقیقات کیلئے نیب کے سپرد کرنے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے اجلاس میں تیاری کر کے نہ آنے اور ڈی اے سی میں عدم شرکت پر چیئرمین سی ڈی اے فرزند اقبال اور ممبر اسٹیٹ خالد پر سخت برہمی کا اظہا ر کیا۔ کمیٹی نے پی ٹی اے اور سی ڈی اے کے 100 ارب سے زائد رقوم کے آڈٹ اعتراضات کو ترجیحی طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ رکن کمیٹی ایاز صادق نے کہا کہ سی ڈ ی اے کمیٹی کیس اپیل نہ کرنے کی وجہ سے ہارا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جس پر سوالیہ نشان نہ ہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سی ڈ ی اے اسلام آباد میں سٹیل اسٹیٹ مافیا کا حصہ ہے۔