پاکستان کی امداد کا بل نئی شکل میں کسی اور نام سے پیش کیا جائیگا: ترجمان امریکی سینٹ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی/ ثناءنےوز) امریکی کانگریس کی میعاد ختم ہونے کے باعث پاکستان کے لیے 15 ارب ڈالر کی امریکی امداد کا بائیڈن لوگر بل منظوری حاصل نہیں کرسکا۔ ذرائع کے مطابق بہت جلد یہ بل نئی شکل میں کانگریس کے سامنے پیش کیا جائےگا۔ سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کے ساتھ شراکت داری میں اضافے کا یہ بل امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن سنیٹر رچرڈ لوگر کے ساتھ اس وقت تیار کیا تھا جب وہ خود بھی سنیٹر تھے اسی لئے اسے اسے بائیڈن لوگر بل کہا جاتا ہے۔ اس بل کے تحت پاکستان کو تعلیم اور سماجی ترقی کی مدد میں آئندہ 10 سالوں میں سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی شرح سے 15 ارب ڈالر کی امداد دی جانی تھی۔ امریکی سینٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے ترجمان کے مطابق کانگریس کی مدت ختم ہو گئی اس لئے یہ بل ختم ہوچکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اب اس بارے میں کوئی نیا بل پیش کرنا ہوگا اور یہ بل کسی اور نام سے سامنے آسکتا ہے۔ نمائندہ خصوصی کی رپورٹ کےمطابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ ارکان کانگریس اور سنیٹروں نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسا ہی ایک اور بل جلد ایوان میں پیش کیا جائیگا تاکہ پاکستان کو امریکی امداد بند نہ ہو بلکہ گزشتہ بل میں جن وجوہات کی بناءپر پاکستان کو امداد دینے کی سفارش کی گئی تھی ایسا ہی ایک نیا بل متفقہ طور پر پاس کرلیا جائیگا۔ ادھر واشنگٹن میں کانگریس حکام کا کہنا ہے کہ ابھی ہم کچھ نہیں بتا سکتے کہ اس طرح کا بل کب پیش ہوگا اور کتنے صفحات پر مشتمل ہوگا جبکہ گزشتہ مسودہ 12 صفحات پر مشتمل تھا۔