مشرف دور میں پاکستان اور اسرائیل کے درمیان رابطے میں کردار ادا کیا تھا:طیب اردگان

نیویارک (نمائندہ خصوصی) ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع کرانے کیلئے دونوں کے ساتھ بالواسطہ طور پر رابطے میں رہا ہے اور اسی طرح کا کام ہم نے پاکستان اور اسرائیل کے سلسلے میں بھی کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مشرف کے دور حکومت میں ہم نے ان دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کو استنبول میں اکٹھا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان خفیہ ملاقاتیں دو دن تک جاری رہیں۔ یہ بات انہوں نے امریکی جریدے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ایک سوال پر انہوں نے اس بات کو غلط قرار دیا کہ حماس ایران کی آلہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے ایک سیاسی جماعت کے طور پر الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ اگر دنیا اسے ایک سیاسی کھلاڑی بننے کا موقع دیتی تو شاید الیکشن کے بعد یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی جو آج دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا نے فلسطینی عوام کے سیاسی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ ایک طرف ہم جمہوریت کی رٹ لگاتے ہیں اور دوسری طرف انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فلسطینی ایک اوپن ائر جیل کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے سپیکر\\\' بعض وزراءاور ارکان پارلیمنٹ تک کو جیل میں ڈال کر یہ کیسے توقع کی جا رہی ہے کہ وہاں کے عوام بڑی سعادت مندی کے ساتھ خاموش بیٹھے رہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ غزہ میں امن فوج کیلئے ترک فوجی دستے پہنچنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے بعض لوگوں کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ وہ یہودیوں کے مخالف ہیں اس لئے غزہ پر اسرائیل کے حالیہ حملے کے بارے میں انہوں نے سخت رویہ اختیار کررکھا ہے۔ اس سوال پر کہ امریکی یہودی اس صورتحال پر بہت پریشان ہیں\\\' ترک وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکی یہودیوں کے اس طرزعمل سے پریشان ہیں کیونکہ میرے ملک کے اندر رہنے والے یہودی میرے طرزعمل کے بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی مخالفت انسانیت کیخلاف جرم ہے۔ میری موجودہ مایوسی اسرائیلی حکومت کے طرزعمل کے باعث ہے۔ ایک سوال پر کہ ترکی میں یہودیوں کی مخالفت کے آثار دکھائی دے رہے ہیں\\\' انہوں نے کہا کہ وہاں ہونیوالے مظاہرے جمہوریت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح کے مظاہرے امریکہ اور میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ جو کچھ بھی وہاں ہورہا ہے وہ یہودیوں کیخلاف نہیں\\\' اسرائیلی حکومت کے روئیے کیخلاف ہے۔ میں اپنی تقریروں میں بھی واضح کرچکا ہوں کہ ترکی میں جو بھی کوئی یہودیوں کیخلاف کچھ کرنے کا تصور بھی کریگا وہ مجھے اپنا مخالف پائیگا تاہم یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنی تقریریں میں اسرائیلی وزیراعظم سے لکھواﺅں۔