دوسری جنگ عظیم میں غرق ہونیوالے جہاز سے 2 ارب 60 کروڑ پائونڈ کا خزانہ دریافت

دوسری  جنگ  عظیم  میں  غرق  ہونیوالے  جہاز  سے  2  ارب  60  کروڑ  پائونڈ  کا  خزانہ  دریافت

واشنگٹن (وائس آف امریکہ) سمندر میں خزانے تلاش کرنے والی کمپنی ’’سب سی ریسرچ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ گیانا کے ساحل سے 40 میل کے فاصلے پر کھلے سمندر میں ایک ڈوبے ہوئے بحری جہاز میں دو ارب 60 کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کا خزانہ موجود ہے‘ یہ جہاز ایک برطانوی بحری کمپنی کا تھا جسے دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں نے تارپیڈو مار کر ڈبو دیا تھا۔ سمندر کی تہوں میں ڈوبے ہوئے جہازوں سے خزانہ تلاش کرنے والی اس کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈوبے ہوئے خزانوں کی تاریخ کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خزانہ حاصل کرنے میں کئی قانونی پیچیدگیاں حائل ہوتی ہیں اور دعویداروں کو خزانہ ملنے میں کئی سال تک لگ سکتے ہیں۔ کمپنی اس خطرے کے پیش نظر کہ خزانے کے مزید دعویدار سامنے نہ آ جائیں‘ ڈوبے ہوئے جہاز کے اصل مقام کا پتا بتانے سے گریز کر رہی ہے تاہم اپنی اس دریافت کے بارے میں قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے اس نے ڈوبے ہوئے بحری جہاز کو Blue Baron کا کوڈ نام دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بلیو بیرون پر کم از کم دس ٹن سونا‘ 70 ٹن پلاٹینیم‘ آدھا ٹن صنعتی استعمال کے ہیرے اور ایک کروڑ 60 لاکھ قیراط وزنی قیمتی جواہرات موجود تھے۔ اس کے علاوہ جہاز پر ہزاروں ٹن تانبا اور ٹن بھی تھا۔ اگرچہ کئی عشروں تک پانی کی تہہ میں پڑے رہنے سے تانبے اور ٹن کو نقصان پہنچ چکا ہے تاہم سونا‘ پلاٹینیم اور جواہرات بالکل محفوظ ہیں۔ آج کے دور کے مطابق اس خزانے کی مالیت دو ارب 60 کروڑ برطانوی پاؤنڈ کے برابر ہے۔