مقبوضہ کشمیر : تین شہری شہید‘ شوپیاں میں مظاہرین پر بدترین تشدد‘ 12 زخمی

سرینگر+اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک+ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں میں مزید 3 شہری شدید زخمی ہو گئے جبکہ شوپیاں میں احتجاجی مظاہرین پر بدترین تشدد سے 4 خواتین سمیت 12 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ مجلس مشاورت شوپیاں نے ریاستی حکومت کی جانب سے سانحہ شوپیاں میں ملوث ملزمان کی شناخت اور ان کی گرفتاری میں ناکامی کیخلاف آج منگل سے 4 روزہ احتجاجی پروگرام کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت آج جنوبی کشمیر میں مکمل ہڑتال و احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔ مقبوضہ کشمیر کے شمالی قصبہ بارہ مولہ میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے کشمیری نوجوان کے شہید ہونے کیخلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے جس کے بعد حکام نے پورے ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ چیئرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرے۔ سوپور اور شوپیاں کے مجرموں پر جنگی جرائم کے عالمی ٹربیونل کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق پلوامہ کے علاقے ترال میں بھارتی فوج اور پولیس ٹاسک فورس نے مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں قابض فوج نے دو کشمیری مجاہدین کی شہید کر دیا جن کی شناخت نہیں ہو سکی جبکہ مجاہدین کی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی زخمی ہو گیا۔ ادھر شوپیاں میں 30ویں روز بھی دو معصوم خواتین کی بیحرمتی اور قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرے اور ہڑتال بدستور جاری ہے۔ ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور سانحہ شوپیاں میں ملوث فوجی اہلکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا۔ اس دوران فوج اور پولیس نے مظاہرین پر بدترین لاٹھی چارج اور آنسوگیس پھینکنا شروع کر دیا جبکہ اکھنور کے گاؤں کھور کے علاقے چک پھگواری کے قریب 26 بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بلاجواز طور پر ایک کشمیری نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ پونچھ میں ایک حملے کے دوران ایک بھارتی فوجی ہلاک ہو گیا۔ علاوہ ازیں مولانا فضل الرحمن نے شوپیاں کے واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد کو طاقت کے بل بوتے پر دبانا چاہتا ہے۔ پہلے سوپور واقعہ کی تحقیق نہ کی گئی۔ اگر ذمہ داروں کو سزا ہو جاتی تو شوپیاں کا واقعہ پیش نہ آتا۔