مائیکل جیکسن کے معدہ میں صرف گولیاں پائی گئیں‘ پسلیاں کئی جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھیں‘ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ

لاس اینجلس (نیٹ نیوز + ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) پاپ میوزک کے شہنشاہ مائیکل جیکسن کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی ہے جس کی تفصیلات نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ ’’دی سن‘‘ کے مطابق جس وقت مائیکل جیکسن کی موت واقع ہوئی ان کی حالت خاصی خراب تھی‘ بہت کم خوراک کھانے کے باعث ان کا جسم ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا تھا‘ ان کے معدے میں صرف گولیاں پائی گئی ہیں‘ وہ گنجے ہو چکے تھے‘ ان کی پسلیاں کئی جگہوں سے ٹوٹی ہوئی تھیں‘ ان کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر بے تحاشہ سوئیوں کے نشانات تھے کیونکہ وہ کئی سال سے دن میں تین بار نارکوٹکس پین کلرز لینے کے عادی تھے‘ 13 بار ہونے والی سرجری کی وجہ سے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر نشانات تھے‘ جیکسن فیملی کی خواہش پر ان کا دوسرا پوسٹ مارٹم ہفتہ کو نامعلوم مقام پر کیا گیا تھا۔ ادھر جیکسن فیملی نے کہا ہے کہ مائیکل جیکسن کی زندگی کے کمزور پہلوئوں کو اچھالا جا رہا ہے‘ مائیکل کے والد جوزف جیکسن کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ مائیکل جیکسن کی موت ذہنی تنائو کے باعث ہوئی۔ امریکی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا ماضی اور حال کا سب سے بڑا سپر سٹار ہے۔ ہر طبقے کے لوگ مائیکل جیکسن کو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے اس بات پر یقین کرنے سے انکار کیا کہ مائیکل جیکسن لندن کے کونسرٹس کے باعث ذہنی تنائو کا شکار تھے اور یہی دبائو ان کی موت کا باعث بنا۔ مائیکل جیکسن کے دوست ریورینڈ شارپئن آج ان کے گھر والوں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ جس میں ان تجاویز پر غور کیا جائے گا جو آخری رسومات کو یادگار بنانے کے لئے دنیا بھر سے مائیکل جیکسن کے مداحوں نے بھیجی ہیں۔ شارپئن نے ایک امریکی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیکسن فیملی اس بات سے پریشان ہے کہ میڈیا مائیکل کی ذاتی زندگی کے کمزور پہلوئوں جیسے بچوں سے زیادتی اور مالی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔ مائیکل جیکسن کے ساتھ آخری لمحات میں موجود ڈاکٹر گونرڈ سے لاس اینجلس پولیس نے دوسری بار تفتیش کی اور بعض سوالوں کے جواب حاصل کئے تاہم جیکسن فیملی کے ڈاکٹر سے متعلق شکوک و شبہات ابھی تک دور نہیں ہو سکے۔ دوسری طرف ڈاکٹر کے وکیل کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کونرڈ جب کمرے میں پہنچے تو مائیکل جیکسن کی سانسیں نہیں چل رہی تھیں‘ وہ ہوش میں نہیں تھے‘ ڈاکٹر نے مائیکل جیکسن کو موت سے قبل پین کلر انجکشن نہیں دیا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر کونرڈ نے مائیکل کی موت کے بعد ہسپتال ہی میں جیکسن فیملی سے بات کی تھی اور انہیں پوسٹ مارٹم کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ مائیکل جیکسن ایک بار پھر برطانوی البم چارٹ پر سرفہرست ہو گئے ہیں‘ ان کے گائے ہوئے گانوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ ان کے گائے ہوئے چھ گانوں نے برطانوی چارٹ کے ٹاپ 40 میں جگہ بنائی ہے اور چھ سال بعد ان کا کوئی البم میوزک چارٹ میں سرفہرست ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔ مائیکل جیکسن کے گانوں کا مشہور البم نمبر ونز ایک سو اکیسویں پوزیشن سے نکل کر برطانوی البم چارٹ میں سرفہرست آ گیا۔ اسی البم کی وجہ سے مائیکل جیکسن 2003ء میں آخری بار برطانوی البم چارٹ کی چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ آفیشل چارٹس کمپنی کے مطابق مائیکل جیکسن کے چار دیگر البم ٹاپ 20 میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اب تک سب سے زیادہ بکنے والا البم تھرلر مائیکل جیکسن کے انتقال سے پہلے چارٹ پر 179ویں نمبر پر تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد یہ چارٹ کے ساتویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ان کا البم کنگ آف دی پاپ چارٹ کے 15ویں آف دی وال سترہویں اور ایسنشل بیسویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ آفیشل چارٹس کمپنی کے مطابق اس ہفتے اس کے 200 ٹاپ البموں میں سے گیارہ مائیکل جیکسن یا جیکسن فائیو کے ہیں۔ سنگلز کے چارٹ میں بھی پوزیشن کچھ مختلف نہیں کیونکہ ٹاپ 200 سنگلز میں سے 43 مائیکل جیکسن کے ہیں۔ آفیشل چارٹس کمپنی کے مطابق ٹاپ 40 میں جو نئے اضافے ہوئے ہیں ان میں ایک کو چھوڑ کر باقی سب مائیکل جیکسن کے گانے ہیں۔ اس ہفتے کے آخری دو دنوں کے دوران مجموعی طور پر مائیکل جیکسن کے تین لاکھ البم یا سنگل فروخت ہوئے۔ میوزک ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائیکل جیکسن کے انتقال کے بعد ان کے سنگلز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے لیکن ان کے ہٹ گانوں کی فہرست طویل ہونے کی وجہ سے کوئی ایک گانا سیل کے لحاظ سے ممتاز مقام نہ حاصل کر سکا جس کی وجہ سے وہ ٹاپ ٹین سنگلز کی کیٹیگری میں شامل ہونے سے رہ گئے۔ مائیکل جیکسن کا گانا مین ان دی مرر اپنی ریلیز کے بیس سال بعد چارٹ کے گیارہویں نمبر پر پہنچ گیا جبکہ بلی جین 25ویں نمبر پر رہا۔ اسی طرح سموتھ کریمینل سنگلز چارٹ پر اٹھائیسویں‘ بیٹ اٹ تیسویں اور ارتھ سونگ 38ویں نمبر پر رہا۔لال اینجلس کے ایک جج نے مائیکل جیکسن کی والدہ 79 سالہ کیتھرین جیکسن کو ان کے تین بچوں کا عارضی گارڈین مقرر کیا ہے۔