امریکی صدر کی طرف سے ایران سے تعلقات کار کو آمنے سامنے بیٹھ کر حل کرنیکی خواہش‘ خط کا ڈرافٹ تیاریاں شروع

لندن (آصف محمود سے) امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے ایران کیلئے ایک نیا خط ڈرافٹ کیا ہے جس میں امریکی صدر کی طرف سے کئی سالوں سے متاثرہ تعلقات کو بحال کرنے اور آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اس خط کو ڈرافٹ کرنے پر کام 4 نومبر 2008ء کو باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد شروع کر دیا تھا۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ خط امریکی رویے میں تبدیل کا ثبوت ہو گا اور سابقہ بش انتظامیہ کی طرف سے ایران کو برائی کی جڑ قرار دینے اور سابقہ پالیسیوں کے خلاف مؤثر ثابت ہو گا۔ اس خط میں ایرانی لیڈروں کے متعلق شکوک و شبہات ختم کر کے اوباما کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیلئے بھی کہا جائیگا۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ابھی اس خط کے تین ڈرافٹ تیار کئے جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ ایران میں احمدی نژاد کی حکومت کو ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ رویے کی درستگی کا خواہاں ہے۔ یہ خط ایرانی عوام کے نام لکھا جائیگا اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کو براہ راست بھیجا جائیگا۔ اس خط میں ایران کو دبے الفاظ میں دہشت گردوں کی حمایت ترک کرنے کیلئے بھی کہا جائیگا۔ یہ خط امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کو منظوری کیلئے بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد یہ ایران بھیجا جائیگا۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ خط دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اوباما کیا چاہتے ہیں اور اگر حقیقی طور پر امریکی پالیسی میں تبدیلی نظر آئی تو اس کا خیرمقدم کیا جائیگا۔ احمدی نژاد جنہوں نے آئندہ جون میں ہونیوالے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی تصدیق کی ہے کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ صرف چال بدل رہے ہیں یا بنیادی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ امریکہ کی طرف سے سفارتی کوششوں کو اس خطرے کے پیش نظر تیز کیا گیا ہے جس میں اسرائیل ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔