تھائی لینڈ ۔ حکومت مخالف مظاہرے جاری ۔ تحریک عدم اعتماد ناکام

بنکاک (اے ایف پی+ بی بی سی) تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں ادھر وزیر اعظم ینگ لک شناواترا کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی ہے یہ تحریک اپوزیشن ڈیموکریٹ پارٹی نے پیش کی تھی جس پر ایوان زیریں میں ووٹنگ ہو گی۔ تحریک کے حق میں 134 اور مخالف میں 297 ووٹ آئے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے ینگ لک ایک کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں وزیر اعظم نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں اپوزیشن سے کہا مظاہرے روک دیں۔ ہم کسی سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ وزارتوں کی عمارتوں کا گھیرائو ختم کر دیا جائے۔ ادھر بان کی مون نے صورت حال پر اظہار تشویش کیا ہے۔ مظاہرین نے وزارت تعلیم اور دفاع کی جانب مارچ کیا، پانچویں روز بھی مظاہرے کئے گئے۔ حکومت کو2010ء کے پرتشدد مظاہروں کے بعد ملک میں ہونے والے بڑے مظاہروں کا سامنا ہے۔ اقوم متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی تھائی لینڈ کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالات کو بے قابو ہونے سے بچانے پر زور دیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مظاہرین آگے کیا کریں گے لیکن وہ ابھی تک چند دن کے لیے سرکاری اداروں کے کام کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حکام نے کسی قسم کے تشدد سے بچنے کی خاطر مظاہرین کو روکنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ جمعرات کو اس سے پہلے ملک کے وزیر تعلیم نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ فیو تھائی پارٹی کو توازن قائم کرکے یہ ظاہر کرنا ہو گا کہ اسے تھاکسین شیناوترا کنٹرول ہیں کرتے۔ ادھر وزیر اعظم نے ملک میں سیاسی بحران کی سنگینی کے پیش نظر مظاہرین سے اپنی کارروائیاں روک دینے کی اپیل کرتے ہوئے مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔