پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کیلئے ملکی، غیرملکی امداد چاہئے: رابن رافیل

واشنگٹن (آن لائن ) پاکستان کے لئے  امریکہ کے غیرفوجی  ترقیاتی پروگراموں  کی رابطہ کار  سفیر رابن رافیل کے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو کی مزید تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے پاکستانی معیشت کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے  لئے  امریکی امداد اور امریکہ سے تجارت، دونوں کی ہی ضرورت ہے۔ امریکی حکومت کے آفس آف دی  یو ایس ٹریڈ ریپرزنٹیوو کی ویب سائٹ کے مطابق 2013ء میں امریکہ کیساتھ تجارت کے لحاظ سے پاکستان 62 واں بڑا ملک  تھا۔ پچھلے سال پاکستان نے تین ارب 70 کروڑ ڈالر کی منصوعات امریکہ بھیجیں جبکہ امریکہ سے پاکستان بھیجی جانے والی اشیاء کی مالیت ایک ارب 60 کروڑ ڈالر تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ  تجارت میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں ہے۔ رابن رافیل نے کہا پاکستان کو امداد اس وقت  تک جاری رہنی چاہئے جب تک  وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے پُرکشش حالات پیدا کرنے کے قابل  نہیں ہوجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو  روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے یقینی طورپر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری درکار ہے۔ بجلی بحران سے متعلق  سوال کے جواب میں رافیل کا کہنا تھا اس وقت توانائی پاکستانی حکومت کے ایجنڈے میں سر فہرست  ہے اور ہمارے امدادی پروگراموں میں  بھی توانائی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا  "جب میں گذرے  ہوئے پانچ سال پر نظر ڈالتی ہوں تو اپنے ادارے کی کارکردگی پر اطمینان کا احساس ہوتا ہے۔ ہم  پاکستانی گرڈ میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرنے کے ساتھ  شمالی اور جنوبی وزیرستان کو ملک کے شہری علاقوں سے ملانے کے لئے 900 کلومیٹر سڑکیں بنوا چکے ہیں۔ ہم نے افغان تجارت کوترقی دینے پر بھی کام کیا ہے۔   ہم نے چھ سو نئے سکول تعمیر کرائے ہیں یا ان کی تزئین و آرائش اور مرمت کرائی ہے۔ تعلیمی معیار کی ترقی کے لئے اساتذہ کے لیے تربیتی کورسز ترتیب دئیے ہیں۔ ماں اور بچے کی صحت کے لئے کام کرنے والے طبی کلینکس کو  فنڈز مہیا کئے ہیں۔ ہم نے  فاٹا میں حکام اور مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے26 سو چھوٹے پراجیکٹس مکمل کرائے  ہیں، ہم اب تک12 ہزار طالب علموں کو وظائف دے چکے ہیں۔"معاشی ترقی کے لئے ہم زرعی پراجیکٹس  میں بھی مدد فراہم کر رہے  ہیں۔ اسی طرح چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی بھی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا وہ پاکستان کے مختلف حصوں میں جاتی رہی ہیں اور بلاشبہ یہ بہت خوبصورت ملک ہے اور وہ پاکستان کے مستقبل سے بہت پرامید ہیں اور ہم افغانوں کو تنہا چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔