وسطی افریقی جمہوریہ مزید چوبیس مارے گئے‘ مسلمانوں کی جبری نقل مکانی نسل کشی ہے : اقوام متحدہ

وسطی افریقی جمہوریہ مزید چوبیس مارے گئے‘ مسلمانوں کی جبری نقل مکانی نسل کشی ہے : اقوام متحدہ

بنگوئی (اے پی پی + اے پی اے) وسطی افریقی جمہوریہ کے شہر نانگا بوگیلا میں جنگجوئوں کے ایک حملے میں 15 مقامی سرداروں اور طبی خیراتی اداروں کے 3 ارکان سمیت 24 افراد مارے گئے۔ اس افریقی ملک میں دو ہزار تیرہ سے متحارب عیسائی اور مسلم عسکریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ اقوام متحدہ نے ہزاروں مسلمانوں کی جبری نقل مکانی کو نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔ اسلامی تعاون کی تنظیم نے وسطی افریقی جمہوریہ میں چودہ وفود بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ نسلی تنازع کے خاتمے میں مدد دی جاسکے۔ حملہ دارالحکومت بنگوئی کے شمال میں 450 کلومیٹر دور نانگا بوگیلا میں کیا گیا۔ ایک سابق رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے ایم ایس ایف کے زیر انتظام چلنے والے میڈیکل سنٹر پر مسلح افراد نے پیسوں کی تلاش میں حملہ کیا۔ اس دوران ایک میٹنگ میں شریک مقامی سرداروں نے بھاگنے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔ 15 مقامی سردار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 6 ہزار سے زائد فوجی بچے فرقہ وارانہ لڑائی میں شامل ہوچکے ہیں جس کی وجہ غربت، مایوسی اور بدلہ لینے کی خواہش ہے، خواتین کو بھی جنسی غلاموں کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں 2 ہزار فرانسیسی اور 5 ہزار سے زائد افریقی امن فوجی تعینات ہیں۔ گزشتہ 18 ماہ سے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان جاری فسادات میں اب تک ہزاروں مسلمان مارے جاچکے اور لاکھوں افراد دیگر شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ دارالحکومت کو بھی مسلمانوں سے خالی کرا لیا گیا ہے۔ گزشتہ روز 13 سو مسلمانوں کو 20 ٹرکوں پر سوار کرکے نکالا گیا وگرنہ مسلح عسکریت پسند انہیں ہلاک کرسکتے تھے۔ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ایک سینئر مشیر یوان میرنر کا کہنا تھا یہ صورتحال المناک اور ناقابل معافی ہے لیکن انکی زندگیوں کو بچانے کیلئے انکے انخلاء کا ہی واحد راستہ بچا تھا۔ عیسائی عسکریت پسندوں کی تنظیم ’’اینٹی بالکا‘‘ کی طرف سے مسلمانوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسیحی مسلح گروپ مسلمان عسکری گروپ ’’سیلیکا‘‘ کے مخالف ہیں۔ سیلیکا گروپ 2012ء میں وجود میں آیا تھا اور ابتدائی طور پر اس گروپ نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا تھا۔ گذشتہ برس مارچ میں میشل جوتودیا سیلیکا کی مدد سے اس ملک کے پہلے مسلمان صدر بن گئے اور وہ رواں بس جنوری میں بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے مستعفی ہو گئے تھے۔