عراق : پولنگ سٹیشنوں پر حملے اور تین خودکش دھماکے‘ 9 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 58 ہلاک

عراق : پولنگ سٹیشنوں پر حملے اور تین خودکش دھماکے‘ 9 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 58 ہلاک

بغداد(اے ایف پی+اے پی پی+اے پی اے)عراق کے مختلف شہروں میں پولنگ سٹیشنوں پر حملوں ، 3 خود کش دھماکوں میں 9 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 58 افراد ہلاک اور 120زخمی ہوگئے ،ملک بھر میںسخت سیکورٹی انتظامات میں بدھ کو ووٹ ڈالے جائیں گے، ہزاروں سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ کردش سیاسی ورکرز کی ریلی میں خود کش دھماکے میں 30 افراد مارے گئے جبکہ 6 صحافی زخمی ہوگئے۔ بغداد میں خود کش کار بم دھماکے سے4 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔دھماکا بغداد کے مشرقی علاقے ،صدر، میں واقع بازار کے نزدیک ہوا، قریبی دکانوں کو شدید نقصان پہنچاہے ۔کل سے ملک بھر میں پارلیمانی الیکشن کا مرحلہ شروع ہوگا۔ قبل ازیں اتوار کو دنیا بھر میں قائم20 عراقی سفارتخانوں میں تارکین وطن نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے پولنگ سٹیشن کو اس وقت نشانہ بنایا جب فوجی اور پولیس اہلکارپارلیمانی الیکشن کے سلسلے میں ووٹ ڈال رہے تھے ۔میجرجنرل تورحان عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ حملے میں 6 سیکورٹی اہلکا ر ہلاک اور 4 زخمی ہوئے ۔وزارت داخلہ کے ترجمان سعد مان ابراہیم نے بتایا ہے کہ بغداد کے مغربی علاقے منصور میں ایک اور پولنگ سٹیشن کوبم حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں 3 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق موصل میں ایک خودکش حملے میں 5 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے۔ عراقی الیکشن کمیشن کے نائب سربراہ کتائی الزاوابی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات سے 2 روز قبل پیر کو ایک ملین سے زائد سیکورٹی اہلکاروں نے ووٹ ڈالے ،ووٹ ڈالنے والوں میں ہزاروں بے گھر افراد،مریض،قیدی بھی شامل ہیں۔ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کے لیے 97 ہزار سے زائد مبصرین تعینات ہیں۔ عراقی پارلیمانی انتخابات میں پارلیمنٹ کی 328 نشستوں پر 9200 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ ملک بھر میں ووٹرز کی تعداد 20 ملین کے قریب ہے۔