سرتاج عزیز کی ملاقات‘ پاکستان مشترکہ سرحد پر سیکورٹی کے حوالے سے تحفظات دور کرے : ایرانی صدر

سرتاج عزیز کی ملاقات‘ پاکستان مشترکہ سرحد پر سیکورٹی کے حوالے سے  تحفظات دور کرے : ایرانی صدر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے تہران میں ایران کے صدر حسن روحانی کیساتھ ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے اخوت و بھائی چارہ، تعاون اور دوستی و ہم آہنگی کا پیغام پہنچایا۔ سرتاج عزیز نے وزیر اعظم نواز شریف کا تحریری خط بھی ایرانی صدر کے سپرد کیا۔ ملاقات کے دوران سرتاج عزیز نے زور دیا پاکستان ا ور ایران کو خطہ میں امن و سلامتی کے استحکام ترقی و خوشحالی اور امہ کے اتحاد کیلئے ملک کر کام کرنا چاہئے۔انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا صدر روحانی کے دور میں دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید استحکام نصیب ہوگا۔ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا وہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ ایران کے منتظر ہیں جس کے نتیجہ میں پاکستان اور ایران کے تعلقات اور زیادہ مستحکم ہوں گے۔ایرانی صدر نے کہا وہ پاکستان کو ایک اہم پڑوسی اور برادر ملک تصور کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کو اپنے عوام کی بہتری کیلئے تمام وسائل سے بھرپور استفادہ کرنا چاہیے۔اس سے قبل سرتاج عزیز اور ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے درمیان بھی ملاقات ہوئی اور باہمی تعلقات کے موضوع پر تبادلہ خیالات کیا گیا۔ آئی این پی کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ایران پاکستان کی سکیورٹی کو اپنی سکیورٹی سمجھتا ہے، پاکستان مشترکہ سرحد پر سکیورٹی کے حوالے سے ایران کے تحفظات دور کرے، دہشت گردی پورے خطے کیلئے خطرہ ہے، خطے کے تمام ممالک اس سے مل کر نمٹیں۔ اے این این کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے پاکستان اورایران کی مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کو دونوں ملکوں کیلئے اہم مسئلہ قرار د یتے ہوئے کہا  ایران پاکستان میں امن و استحکام کو اپنا امن و استحکام سمجھتا ہے،  دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے تمام ملکوں کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کوششیں کرناہوں گی۔ ایرانی صدرنے دہشت گردی کو نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ اقوام عالم کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا  دہشت گرد وں کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام ملکوں کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کوششیں کرنے کی ضروت ہے۔ انھوں نے پاکستان اورایران کی مشترکہ سرحدوں کی سلامتی کو دونوں ملکوں کیلئے ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور اس سلسلے میں خدشات دور کرنے کیلئے ضروری تدابیر اختیار کئے جانے کی ضرورت پر زوردیا ۔ روحانی نے پاکستان اورایران کے اقتصادی تعلقات کی موجودہ سطح کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا اس سلسلے میں کافی مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔ این این آئی کے مطابق ایران اور پاکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے،انتہا پسندی اور مذہبی فرقہ واریت کیخلاف مشترکہ مہم شروع کرنے اور تعلقات کے فروغ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر اتفاق کیا ہے ،ایران نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شعبے میں منصوبے شروع کرنے پر آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور امید ظاہر کی وزیراعظم نواز شریف کے آئندہ ماہ دورہ ایران سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہو گی اور پاک ایران برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔