امریکہ کا فلپائن کے فوجی اڈوں تک وسیع تر رسائی کا معاہد ہ طے پاگیاچین ہماراہدف نہیں،امریکہ ہمسایوں کے ساتھ تنازعات مذاکرات سے حل کرتاہے

امریکہ کا فلپائن کے فوجی اڈوں تک وسیع تر رسائی کا معاہد ہ طے پاگیاچین ہماراہدف نہیں،امریکہ ہمسایوں کے ساتھ تنازعات مذاکرات سے حل کرتاہے

منیلا(این این آئی+ اے پی پی)امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کیلئے چین کی حلیف بننا چاہتی ہے۔ چین ہمارا ہدف نہیں، امریکہ ہمسایوں کے ساتھ تنازعات مذاکرات سے حل کرتا ہے۔ ادھراوباما کی منیلا آمد سے قبل پیر کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک دس سالہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت امریکہ کو فلپائن کے فوجی اڈوں تک وسیع تر رسائی حاصل ہوگی۔، اس معاہدے پر فلپائن میں تعینات امریکی سفیر فلپ گولڈ برگ اور فلپائن کے سیکرٹری دفاع وولٹیئر گیزمین نے دستخط کیے، اوبا جاپان، جنوبی کوریا اور ملائیشیا کے بعد پیر کو فلپائن پہنچے جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب بینگنو آکینو سے ملاقات کرنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں چین کا اثرو رسوخ اس کے ہمسایہ ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بنے گا، انہوں نے کہاکہ ہمارا ہدف چین کا مقابلہ کرنا نہیں ہے۔ ہمارا ہدف چین پر قابو پانا نہیں ہے۔ ہمارا ہدف اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور اقدار کا احترام کیا جائے اور ان میں بین الاقوامی تنازعے شامل ہیں، اوباما نے مزید کہاکہ ہم تو قوموں کے درمیان تنازعات میں کوئی مخصوص پوزیشن بھی نہیں اپناتے لیکن بین الاقوامی قانون اور عالمی اقدار کے حوالے سے، ہم نہیں سمجھتے کہ ڈرا دھمکا کا تنازعے حل کیے جا سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرتا ہے۔ اس موقع پر بینگنو آکینو نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ نئے معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی تعاون ایک نئی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے میں امن اور استحکام کو فروغ حاصل ہو گا۔اوباما نے کہا ایشیا میں تنازعات کو پرامن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔