چھتیس گڑھ: جادوگرنی کے شبہ پر رشتہ داروں نے تشدد کر کے خاتون قتل کر دی

نئی دہلی (بی بی سی+ اے ایف پی) بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک خاتون کے رشتے داروں نے اسے کالا جادو ٹونا کرنے کے شبے میں تشدد کر کے قتل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 55 سالہ بیوہ دوکلہین بائی کی موت اس کے رشتے دار نکل پٹیل اسکی بیوی اور دیگر کی گھنٹوں مار پیٹ کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا اس خاتون کو برہنہ کر کے مارا پیٹا گیا تھا۔ اس کے اعضاء رئیسہ، آنکھوں اور کانوں میں مرچیں ڈال کر گھسیٹا گیا۔ نکل پٹیل کا الزام ہے کہ وہ خاتون جادو ٹونے کے ذریعے اس کے بیٹے کو بیمار کر رہی تھی۔ واضح رہے کہ بھارت میں جادو ٹونے کے الزام میں خواتین کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات عام ہیں۔ تازہ واقعہ چھتیس گڑھ کے بیمیترا ضلعے میں پیش آیا ہے۔ پولیس نے خاتون کے قتل کے معاملے میں نکل پٹیل سمیت 10 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ دوکلہین بائی کے بیٹے اشوک پٹیل نے بی بی سی کو بتایا ’میری ماں کو بہت بری طرح سے مارا گیا۔ وہ چیختی چلاتی رہی اور پورا گاؤں دیکھتا رہا۔ میں اکیلا تھا۔ میں نے مخالفت بھی کی لیکن اپنی ماں کو نہیں بچا پایا۔‘ بھارت کے قبائلی علاقوں میں خواتین کو ڈائن یا جادوگرنی قرار دئیے جانے کا چلن عام ہے۔ اس سے قبل نیزہ پھینکنے میں کئی طلائی تمغے جیتنے والی دیب جانی بورا نے اسی ماہ بی بی سی کو بتایا کس طرح بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ان کے گاؤں میں انہیں ڈائن قرار دیا گیا تھا اور پیڑ سے باندھ کر مارا پیٹا تھا۔