ہریانہ: آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندوئوں نے مسجد، مسلمانوں کے 18 گھر جلادیئے، حملے میں 17 افراد زخمی

نئی دہلی/ چندی گڑھ (آئی این پی) بھارت میں ہندو انتہاپسندوں نے ریاست ہریانہ میں ایک مسجد میں پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی اور مسلمانوں کے 18 گھراوردیگر املاک کوبھی نذر آتش کردیا۔ انتہاپسند ہندوؤں کے حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے گاؤں میں دفعہ 144 نافذ کردی تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی،20 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ بدھ کو بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی سے 37 کلومیٹر دور واقع فرید آباد میں گاؤں اٹالی میں ایک مسجد کی تعمیر جاری تھی جس کو ہندوؤںجن میں اکثریت جاٹ برادری کی تھی نے پہلے مسجد کو نذرآتش کیا۔ بعد ازاں مسلمانوں کی رہائشی آباد پر حملہ آور ہوئے۔ اٹالی میں 5 سال قبل مسجد اور مندر ایک ساتھ تعمیر کیے جا رہے تھے مگر اراضی کے تنازع کے باعث مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ مقامی افراد کے مطابق 10 شرپسند ہندو مسجد میں داخل ہوئے جن کے ہاتھوں میں پیٹرول کے کین تھے۔ انتہاپسند ہندوؤں کے حامی موٹر سائیکلوں پر مسجد کے باہر موجود تھے جنہوں دروازے پر لگی نام کی تختی کو بھی توڑ دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق انتہاپسند ہندو جماعت راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) سے تھا۔ مسلمانوں کے نمائندہ ممتاز علی نے بتایا کہ جاٹ چاہتے تھے کہ یہاں مسجد تعمیر نہ ہو کیونکہ وہ ساتھ والے پلاٹ پر مندر تعمیر کرنا چاہتے تھے۔ اٹالی گاؤں میں 20 مکان بھی نذرآتش کئے گئے جن میں سے 18 مسلمانوں کے ہیں۔ فرید آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ادیت دھاہیا کے مطابق متاثرہ خاندانوں کے افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا جس کے بعد انکو واپس گھروں کر بھیج دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔واضح رہے کہ جس دن مسلمانوں کے گھر نذرآتش کئے گئے اس روز بھی 500 پولیس اہلکار علاقے میں تعینات تھے۔علاقے میں پہنچنے والے مسلمانوں کے مطابق انکے گھروں کا تمام سامان آر ایس ایس کے کارکن لوٹ کر لے جا چکے ہیں جبکہ بعض مکانوں کو گرایا بھی گیا ہے۔