برطانوی ملکہ ایلزبتھ کی تقریر میں دہشت گردی کیخلاف نئے قوانین کی تجویز پےش

لندن (آئی اےن پی + بی بی سی) برطانوی ملکہ ایلزبتھ کی تقریر میں مشتبہ دہشت گردوں کی ’آن لائن کمیونی کیشن کو نشانہ‘ بنانے کیلئے پولیس اور خفیہ اہلکاروں کو مزید اختیارات دینے کے قوانین کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ برطانوی مےڈےا کے مطابق ڈاو¿ننگ سٹریٹ کا کہنا ہے کہ ’انویسٹیگیٹری پاورز بل‘ حکام کو ایسے ’ذرائع فراہم کرے گا جس سے آپ اور آپ کا خاندان کا تحفظ ہو سکے۔‘یہ قانون خفیہ معلومات اکٹھا کرنے میں موجود ’خلا کو پر‘ کرے گا اور کمیونیکیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکے گا جن سے ’آپ کی جان کو خطرہ‘ لاحق ہو رہا ہے۔ارکانِ پارلیمان نے ان قوانین کو ’جاسوسی کا آئین‘ قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا ہے۔سنہ 2012 میں ہوم آفس کے سامنے پیش کیے جانے والے اس منصوبے کے تحت انٹرنیٹ اور فون کمپنیوں کو فون کالز، ٹویٹس اور سوشل نیٹ ورکس میں پوسٹس کے لاگز کو 12 ماہ تک محفوظ رکھنا تھا۔ یہ تجویر لبرل ڈیموکریٹس کی مخالفت کے باعث رد کر دی گئی تھی۔لیکن اب حکومت پر عراق اور شام کی صورت حال کے باعث مزید اقدامات کرنے کا دباو¿ بڑھ رہا ہے، بالخصوص ان دونوں ممالک سے برطانوی جہادیوں کے وطن واپس لوٹنے کے خطرات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔مشکوک افراد کی آن لائن کمیونیکیشن پر نظر رکھنے کے حوالے سے پولیس کی اہلیت کے بارے میں بحث ہوتی رہی ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کی رفتار بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں سست ہے۔انویسٹی گیٹری پاورز بل ان 26 مجوزہ قوانین میں ہے جو سنہ 1996 کے بعد سے ملکہ کی پہلی آل کنزرویٹیوز تقریر میں شامل تھے۔کنزرویٹیو پارٹی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی تجاویز دے رہی ہے، جن میں ہوم سیکریٹری کو شدت پسند گروہوں پر پابندی عائد کرنے اور انتظامیہ کو ’دہشت گردی کی حمایت کرنے والے‘ مقامات کو بند کرنے کی اجازت دینا شامل ہیں۔شدت پسندی سے متعلق بل میں شدت پسندی سے متعلق مواد نشر کرنے پر ’سخت کارروائی‘ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔بل کی تفصیلات آئندہ چند دنوں میں آنے کا امکان ہے۔