یوم تکبیر ایٹمی قوت اور قومی اخوت

 عزیز ظفر آزاد ۔۔۔۔
کرہ ارض پر ایٹم کی کہانی پرانی نہیں سابقہ صدی کی ابتداءمیں آئن سٹائن نے نیوکلیئر کا خیال پیش کیا جس پر مختلف مراحل میں بات بنتی بگڑتی رہی بعد میں آنے والے اس میں ترمیم و تنسیخ کرتے رہے مگر حتمی نتیجہ پر 1934ءمیں جرمن سائنسدان Enrico Ferminپر پہنچا اس نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ Nacleusنیوکلیئس سست نیوٹرائزڈ کو اپنی طرف کھینچنے کی اہتم صلاحیت کا حامل ہے جوں جوں یہ تجربات ایجادات آگے بڑھتے تھے نئی کرشماتی قوتوں سے حضرت انسان روشناس ہو رہا تھا توں توں گھمنڈ اور برتری کی خواہشات بے لگا م ہوتی جا رہی تھیں ۔ذرائع مواصلات کی فراوانی نے انسان کو خدائی کا دعویدار بنا دیا اب ہر مقتدر قوت مدمقابل کو نابود کرنے کے زعم میں مبتلا ہوگئی ۔مختلف نظریات میں تقسیم دنیا اپنی بقا ءکے لئے دوسروں کو فناہ کرنے میں عافیت کا فلسفہ پر عمل پیرا تھیں ۔ اب کرہ ارض ایک عالمگیر جنگ کے بعد دوسری جنگ عظیم برپا ہونے سے کانپ رہی تھی ۔ روس کو اپنی افرادی قوت پر ناز تھا تو جرمن جاپان کے جرنیل اپنے جدید اسلحہ کو آزمانے کےلئے بے تاب تھے ۔ جاپانی بادشاہ نے اپنے سالاروں کو سمجھانے کی بے حد کوشش کی مگر جرنیل طاقت کی حماقت میں مبتلا تھے ۔ اعلیٰ ٹیکنالوجی اور مہارت کے زور پر دنیا کو زیر ہوتے دیکھ رہے تھے ۔ ایک دن ایک ملک فتح ہورہا تھا کہ دوسرے روز دوسرا ملک زیر ہونے کی خبر سنائی دے رہی تھی ۔ اس شکست و پسپائی سے خوف زدہ امریکہ نے 16جولائی 1945ءپہلا ایٹمی تجربہ کرکے مخالف طاقتوں کو رک جانے کا عندیہ دیا مگر جاپانی جرنیل اپنی منصوبہ بندی کو زیادہ موثر اور کامیاب تصور کرکے آگے بڑھتے چلے گئے لہذا امریکہ نے پہلے 6اگست کو ہیروشیما اور پھر 9اگست 1945ءکو ناگا ساکی پر ایٹمی بم گراکر جنگ کا اختتام کر دیا ۔ امریکہ کے ایٹمی حملہ کی ہلاکت خیزی نے کروڑوں لوگوں کی جان ہی نہیں لی بلکہ اس سرزمین کو بھی بانجھ کر ڈالا جس کے نتیجہ میں جرمن جاپان زیریں نگیں ہوگئے ۔ تمام زور اور ٹور خاک ہوگیا راکھ ہوگیا ۔ایٹمی ہتھیار کی قیامت خیزی نے دنیا کی آنکھیں خیرا کردیں ۔ جوہری طاقت کا حصول ہر ملک و قوم کا مطمع اولین ہوگیا کیونکہ اتنی بڑی بربادی کو مساوی ایٹمی قوت ہی سے روکا جا سکتا تھا اب ہر جانب ایٹمی تجربوں کا آغازہوگیا ۔24اگست 1949کو سوویت یونین نے کامیاب ایٹمی تجربہ کرکے دنیا کی دوسری ایٹمی قوت ہونے کا اعلان کیا تو ٹھیک تین برس بعد 1952میں برطانیہ نے بھی تجرباتی دھماکہ کرکے ایٹمی قوت کے حصول کا اعلان کیا ۔ فرانس نے برطانیہ کے اعلان کے 8سال بعد1960 دھماکہ کرکے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ اسی طرح عوامی جمہوریہ چین نے 16اگست 1964نیوکلیئر ٹیسٹ کرکے عالمی ایٹمی کلب کا رکن بن گیا ۔ اب ایٹمی ممالک کو اس کے پھیلاﺅ پر تشویش لاحق ہوئی لہذا ایک عالمگیر تحریک کے ذریعے این پی ٹی کے نام سے یکم جولائی 1968ءکو ایک بین الاقوامی معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے تحت آئندہ کسی ملک کو ایٹمی ہتھیارتیار کرنے کے تجربے سے روکا جاسکے ۔ کوئی ملک ایٹمی دھماکہ نہیں کر سکے گا ۔ جن ممالک نے اس نئے عالمی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ان میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ اسرائیل بھی شامل تھا ۔ یادرہے بھارت نے آزادی کے فورابعد 1948ءمیں ایٹمی انرجی کمیشن کا قیام عمل میں لا چکا تھا ۔پنڈت جواہر لعل نہرو نے برملا اعلان کیا تھا کہ بھارت اپنے دفاع کو مضبوط تر کرنے کےلئے ایٹمی قوت کے حصول کی ہر ممکن کوشش کرے گا مگر پاکستان کو اس کی ضرورت 1971ءمیں ہمسایہ ملک کی بربریت کرتے ہوئے عالمی قوانین کو سبوتاژ کرکے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں اتارکر قبضہ کیا اور وہاں کٹھ پتلی حکومت کا اعلان کر دیا ۔ تمام عالمی قوتیں خاموش اور ضمیر سوئے رہے ایسی وحشیانہ جارحیت سے نمٹنے کےلئے جوہری ہتھیار ہی بقا کا ضامن محسوس ہوا جو مستقبل میں درست ثابت ہوا پاکستان جےسا بے وسائل ترقی پذیر ملک کو ایسی اعلی جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جو دنیا میں کم ہی میسر ہے اور بھارت اس میں بہت پیچھے ہے ۔قارئین کرام !ایٹمی قوت کے حامل ممالک کا دفاع ہی ناقابل تسخیر نہیں ہوا بلکہ اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ان کی ذراعت صنعت و حرف اور تجارت کے علاوہ عوامی فلاحی منصوبے بھی تکمیل پزیر ہوتے ، خوشحالی اور ترقی کی شاہرائیں کھلتی چلی گئیں ۔ ہماری بدبختی ملاحظہ فرمائیں کہ ہم نے ایٹم بم اپنی حفاظت کےلئے بڑی تگ و دو محنت اور جانفشانی سے حاصل کیا مگر اپنی حفاظت کےلئے حاصل شدہ ٹیکنالوجی کی حفاظت ہی ہمارے لئے بڑا مسئلہ بن گیا ۔ دنیا کی کسی ایٹمی ہتھیار کے خلاف اتنا پروپیگنڈا نہیں سنا جتنا پاکستان کے خلاف ہے کیونکہ بھارت ہمیشہ سوویت یونین کے بلاک میں رہا ہے اس لئے ہمارے ایٹمی پروگرام کی ابتدا بھارت کو ڈرانے کی خاطر جاری رکھنے پر اعتراض نہ تھا جب سے بھارت نے امریکن بلاک سے ناطہ جوڑا ہے تو ہمارے ایٹمی پروگرام کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا ۔ کبھی اسے کیپ کرنے کی تجاویز سنائیں تو کبھی فریز کرنے کا تصور پیش ہوا ۔کبھی اسے غیر محفوظ کہا گیا تو کبھی اس تک طالبان کی رسائی ممکن بتائی گئی یعنی پاکستانی ایٹمی بم کو اسلامی بم کہہ کر تمام مسلم دشمن قوتیں یکجان یک زبان دکھائی دیتی ہیں ۔نئی سازشیں اور منصوبے بنائے جاتے ہیں کسی نہ کسی صورت پاکستان دباﺅ میں آکر خود ہی دستبردار ہوجائے ۔ دشمن تو یہ چاہتے ہیں مگر ہمارے عاقبت نا اندیش سیاسی رہنما بھی اپنے غیر سنجیدہ رویوں سے دشمن کی سوچ کی تقویت کا باعث بنتے ہیں ۔ہم ایٹمی قوت جیسے عظیم اعزاز کو بھی اپنی ذاتیات اور گروہی تقسیم سے گدلاکر دیتے ہیں ۔ مملکت خداداد پاکستان کا قیام عظیم رہبر حضرت قائداعظم کی مدبر اور بصیرت افروز قیادت کے باعث وقوع پذیر ہوا ۔ آپ کے مدلل موقف کے سامنے تاج برطانیہ اور ہندو سازشیں ناکام و نامراد ہوئیں ۔ پاکستان ہمارے بزرگوں کی قربانیوں اور قیادت کے بلند کردار ، اعلیٰ اوصاف ، ایثار و اخلاص پر مبنی رویوں کا ثمر عظیم ہے مگر بعد میں آنے والے حکمران حکمت و فراصت سے عاری گروہی مفاد اور ذاتی شہرت کی بیماریوں میں مبتلا قومی معاملات پر ذاتی انا اور خواہش کو فوقیت دیتے رہے جس کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ایسا منصوبہ تھا جس میں سب نے خلوص سے کام کیا مگر آج وہ انتشار کا شکار ہے ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں ۔ تاریخ کے صفحات گوا ہ ہیں کہ جناب ذوالفقارعلی بھٹو کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خطوط تحریر کئے کہ بھارتی جارحیت سے بچنے کےلئے ہمیں ایٹمی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے ۔ میں اس کام کو انجام دینے کےلئے حاضر ہوں ۔ بھٹو نے ڈاکٹر قدیر خان کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں نہ صرف پاکستان بلایا بلکہ تمام سہولیات مہیا کیں ۔ بقول ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھٹو صاحب کے بعد جنرل ضیا ءالحق اور غلام اسحق خان سمیت سب نے تعاون کیا ۔ ایٹمی ٹیکنالوجی 1984ءمیں حاصل کر لی گئی تھی مگر 28مئی 1998ءیوم تکبیر ہماری تاریخ کا وہ مبارک دن ہے جب ہم نے اپنے ازلی دشمن بھارت کے پانچ دھماکوں کے خلاف چھ دھماکوں سے جواب دے کر اپنی برتری کا ثبوت پیش کیا ۔ یہ دن صرف پاکستان ہی نہیں پوری امت مسلمہ کےلئے فخر اعزاز اور مسرت شادمانی کا دن ہے ۔ آج ہمیں ایٹمی قوت نصیب ہوئی ۔ قوت اخوت ہماری منزل ہے ۔دھماکوں کے وقت کے واقعات کی کہانیاں اخبارات میں چھپ چکی ہیں ۔ کس نے دھماکوں کی حمایت اور کس نے مخالفت کی ۔ جناب مجید نظامی نے دھماکے کے حق میں دھمکی دے دی اگر میاں نواز شریف دھماکہ نہ ہوا تو قوم تمہارا دھماکہ کر دے گی ۔ دھماکہ ہونے سے نہ صرف پاکستانی قومی بلکہ ملت اسلامیہ سرخرو و سرفراز ہوئی ۔ اس دھماکے کے عوض لگنے والی پابندیوں کو پوری قوم نے خوش اسلوبی سے برداشت کیا ۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نواز شریف تک سب کا کردار مثبت تھا مگر یہ عمل ناقابل تردید ہے کہ اس عظیم کارنامے کے واحد ہیرو محسن پاکستان جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں مگر ایک منصوبہ بندی کے تحت جناب ڈاکٹر ثمر مبارک کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے برابر قرار دینا مناسب رویہ نہ تھا ۔ ڈاکٹرثمرمبارک کی قابلیت اور صلاحیتوں سے انکار نہیں مگر جن جذبوں سے اس کارخیر کی بنیاد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے رکھی جن جن مرحلوں سے ان کا گزر ہوا جو جو دشواریوں اور تکلیفوں کا ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے سامنا کیا وہ کسی دوسری شخصیت کے حصے میں نہیں آئیںلہذا قومی یکجہتی اور اتفاق کو قائم رکھنے کے لئے اس باب کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے منسوب کرنا ہی بہتر فیصلہ ہوگا ۔ڈاکٹر ثمر مبارک کی حب الوطنی علمیت اور قابلیت پر کوئی شک ہے نہ کوئی سوال ۔ ہمیں اتفاق رائے سے اپنے ان عظیم سائنسدانوں کے سپرد ملکی خوشحالی کے منصوبوں کو کیا جائے ۔ جدید ٹیکنالوجی انرجی کرائسز سے نمٹنے کے منصوبے پورے ملک میں موجود معدنی خزانوں کی دریافت سے لیکر رےفائننگ تک کے مرحلہ وار پروگرام ترتیب دیا جائے ۔فنی ہنر مندی کا فائدہ ان کی قوم اور ملک کو حد درجہ تک پہنچایا جائے جہاں تک ڈاکٹر قدیر خان کا تعلق ہے انہیں بھی اپنے آپ کو غیر متنازعہ رکھنے کے لئے سیاست سے دور رہنا ہوگا ۔ جب آپ دھماکوں سے وزیر اعظم نوازشریف کو خارج کریں گے تو ان سے خیر کی امید کیسے ہو سکتی ہے آپ دوسرے کسی شعبہ کے افراد کے بارے میں رائے زنی سے پرہیز و گریز کریں یہ آپ کا میدان ہے نہ آپ کی شان اور حرمت کو زیب دیتا ہے کہ آپ کی بات کے جواب میں آپ کو کوئی جھوٹا یا چھوٹا بنائے تمام اکابرین کو اپنے اپنے میدان عمل میں رہتے ہوئے کردار ادا کرنا ہے ۔ فوج کو حکومت میں آنا چاہیے نہ حکومت کو فوج کے اندر پسند نا پسند کی بنیاد پر جھک مارنا چاہیے ۔ تمام اداروں کےلئے یہی معیار مناسب ہوگا کہ اپنے دائرہ عمل میں رہتے ہوئے قومی خدمت کا فریضہ سرانجام دیا جائے خوشحالی اور ترقی یافتہ معاشرے تبھی قائم ہو سکتا ہے جب کہ قوم کا ہر فرد اپنے فرض اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرے ۔ باہمی احترام ہی یکجہتی کا زینہ اور قومی اخوت کا مظہرہے ۔ ہمیں ایٹمی قوت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر قومی اخوت کی منزل تک نہیں پہنچ پائے جس کے باعث مطلوبہ نتائج سے قاصر ہیں ۔پاکستان کا قیام قومی اخوت کا حاصل ہے ۔ ترقی و خوشحالی کی منزل ایک جدید اسلامی جمہوری فلاحی مملکت کی منزل پر لے جانے والی شاہراہ کانام بھی قوت اخوت عوام ہے ۔