یومِ تکبیر کی روح اور اساس

 بہزاد رشید ۔۔۔۔ 
28 مئی کا دن پاکستان کی تاریخ کا وہ درخشندہ باب ہے جب بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں ملک و قوم نے یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا میں پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو منوا لیا۔ 11 مئی 1998ءکو پوکھران میں بھارت کا دھماکہ ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو ایک واضح پیغام تھا کہ اُس کے اس خطے کے حوالے سے مذموم عزائم ہیں۔ 1971ءکی جنگ کے نتیجہ میں پاکستان دو لخت ہو گیا تو اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی باگ ڈور سنبھالتے ہی یہ فیصلہ کر لیا کہ اب بچے کھچے پاکستان کی بقاءکی ضمانت کوئی چیز دے سکتی ہے تو وہ ایٹمی توانائی کا حصول ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے اس عزم کے سامنے کون کون سی رکاوٹیں اور کون سے بند نہ باندھے گئے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھٹو کو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی طرف سے یہاں تک دھمکی ملی کہ ’ اگر تم نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کاوشوں کو ترک نہ کیا تو تمہیں عبرت ناک انجام کی مثال بنا دیا جائے گا۔‘ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھٹو نے اپنا لہو دے کر سینچا ہے تو غلط نہ ہوگا۔بھٹو مرحوم کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اُن کے اس عزم کی اُسی طرح آبیاری کی جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی جان کی بازی لگا کر قوم سے کیا ہوا اپنا عہد نبھایا۔ ملک و قوم کے لئے یہ ایک آزمائش کی گھڑی تھی جب 1998 میں پاکستان میں محمد نوازشریف کی حکومت تھی اور بھارت نے 11 مئی کو دھماکے کر کے ہماری عزت و ناموس کو چیلنج کیا۔ ایک طرف بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس اپنی زبان میں کشمیر پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا تو دوسری طرف آئی کے گجرال کا ”شستہ زبان“ میں پاکستان کو مشورہ تھا کہ اب پاکستان کو بھی دھماکہ کر دینا چاہئے۔ اس بیان میں اُن کی ہندوآنہ چالاکی اوربالادستی کی سوچ کی غمازی ہو رہی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب بھارت کے ایٹمی تجربات پر تو عالمی رائے عامہ نے چپ سادھ لی مگر امریکہ سمیت مغربی طاقتیں ہمیشہ پاکستان کے درپے رہیں کہ پاکستان کو کسی طرح بین الاقوامی توانائی ادارے کے تحفظات اور نگرانی میں لایا جائے اور معاشی لحاظ سے اسے اپنے پا¶ں پر کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پھر پاکستان نے ٹھیک 17 دن بعد ہندوستان کے اس چیلنج کا وہ بھرپور جواب دیا کہ 28 مئی 1998ءکا دن یومِ تکبیر سے موسوم ہو گیا۔ یہی وہ یادگار لمحات ہیں جب پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا، ایشیا کا تیسرا اور اقوام عالم کا ساتواں ایٹمی ملک بن گیا۔ اس کو حالات کی ستم ظریفی کہیں یا کوئی اور نام دیں کہ جس شخص نے کسی بھی عالمی دبا¶ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، ڈالروں کی چکاچوند جس کے عزم کو متزلزل نہ کر سکی 12 نومبر 1999ءکو اس کی منتخب حکومت کا خاتمہ کردیا گیا۔ منتخب وزیراعظم کو پابندِ سلاسل کر کے ملک سے جلاوطنی کا پروانہ ہاتھوں میں تھما دیا گیا ۔ شائد انسان وقت سے پہلے قدرت کے فیصلوں کا ادراک کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ آج وہی میاں نوازشریف وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے کے لئے اپنے خدا کے حضور سربسجود ہے۔