یومِ تکبیر اور میاں محمد نواز شریف!

م ۔ص ۔ گیلانی ۔۔۔
خدائے بزرگ و برتر کی مہربانی سے تحریک پاکستان کی سنہری تاریخوںمیں 1930ءعلامہ اقبال ؒ کا صدارتی خطبہ آلہ آباد، ایک الگ اسلامی مملکت کا تصور ، 23مارچ1940منٹو پارک لاہور میں قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی صدارت میں قرارداد پاکستان کی منظوری،14 اگست 1947ءمملکت خداداد پاکستان کے ظہور کی طرح 28مئی 1998کی ”یومِ تکبیر“ ایک ایسی با برکت اور روشن تاریخ ہے، جس کی یاد سے اہلِ پاکستان کے دل عزت و وقار سے جھوم جاتے ہیں ۔یہ پاکستان کے استحکام کی پُر وقار تاریخ ہے،جسے اہلِ پاکستان کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ یہ وہ تاریخ ہے جس نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے تکبر اور غرور کے بتوں کو پاش پاش کر دیاتھا۔ یہی وہ تاریخ ہے ،جب میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان نے دنیا کی بزعمِ خویش سپر طاقت کے طاقت ور ترین، امریکی صدر بل کلنٹن کے ہر طرح کے دباو¿ اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو شہید سابق وزیر اعظم پاکستان کی ایٹمی قوت کی جلائی گئی شمع اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدا داد صلاحیتوں کی تخلیق ، پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے عملی مظاہرہ کے لئے 28، 29مئی 1998ءبلوچستان میں چاغی کے بلند پہاڑوں میں، سات کامیاب ایٹمی دھماکوں کا خوددارانہ اور غیرت مندانہ منظر سجا کر، پاکستانی پرچم سربلند کر کے نا صرف پوری دنیا کوورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا بلکہ پاکستان کو دنیا کی ساتویں اورعالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست ہونے کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد 12 مئی 1999ءکو میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو ایک سازش کے تحت، جنرل پرویز مشرف نے شب خون مارکر ، پاکستان کو جہاں دشمنوں کی چالوں کا اکھاڑہ بنا دیا وہاں ایٹمی دھماکوں کا کارنامہ سر انجام دینے والے قومی ہیرو ،میاں محمد نوازشریف کو مع ان کے خاندان کے پابند سلاسل کر کے ان کے خلاف طیارہ اغوا کیس کا ڈرامہ رچا کر انہیں بھاری جرمانہ اور پاکستان میں کسی بھی عہدے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ طالع آزمانے اپنے جعلی اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو شہید کی طرح میاں محمد نواز شریف کومنظر سے ہٹانے کے تانے بانے بنے تھے اور میا ں محمد نواز شریف کو مع خاندان کے دیگر افراد سعودی عرب کی مقدس سرزمین میں دس سال کے لئے جلا وطن کر دیا۔ میاں محمد نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد طالع آزما نے ایٹمی صلاحیت کے خالق محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کردار کشی کی ایسی گھناو¿نی مہم شروع کی کہ اُنہےں قومی اور بین الاقوامی برادری کے سامنے ، ایک نیشنل ہیرو کی بجائے قومی مجرم اور سمگلر کے رُوپ میں پیش کیا گیا،جبکہ بھارت نے اپنی ایٹمی صلاحیت کے خالق مسلمان سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنے ملک کا صدر بنا کر اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حب الوطنی، برس ہا برس کی ریاضت اورایثارکو یکسر فراموش کر کے پوری قوم اور خصوصاً نئی نسل کو یہ باور کر ایا کہ خبردار! ڈاکٹر عبدالقدیر کے نقش قدم پر چلنے کا تصور بھی نہ کرنا۔ باایں ہمہ " Man Purposes and God Disposes" کے مصداق اپنے تقریباً 9سالہ دورِ اقتدار میں جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی کردار کشی کی مہم میں کوئی کسر نہ چھوڑی اس کے باوجود وہ میاں محمد نواز شریف کے کارہائے نمایاں اور نہ ہی محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قوم کے دلوں سے عزت و عظمت کے تصور کو مٹا سکا۔