فرا نس: ہم جنس پرست افراد کو شادی کی جازت دینے کےخلاف لاکھوں افراد کا احتجاجی مظاہرہ

فرا نس: ہم جنس پرست افراد کو شادی کی جازت دینے کےخلاف لاکھوں افراد کا احتجاجی مظاہرہ

پیرس (آن لائن) فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ڈیڑھ لاکھ افراد نے شہر کے مرکزی علاقے میں ہم جنس پرست افراد کو شادی کی اجازت دینے والے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ تاہم ریلی کے منتظمین اس میں شریک ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ بتاتے ہیں۔ اس جلوس کے اختتام پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس کے نتیجے میں وزارتِ داخلہ کے مطابق 96 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیرس میں ڈیڑھ لاکھ افراد نے شہر کے مرکزی علاقے میں ہم جنس پرست افراد کو شادی کی اجازت دینے والے قانون کے خلاف نکالے گئے جلوس میں شرکت کی ہم جنس پرست افراد کو شادی کی اجازت دینے والے قانون جس کے تحت ان جوڑوں کو قانونی طور پر شادی اور بچے گود لینے کی اجازت بھی ہو گی پر صدر فرانسوا اولاند نے گزشتہ ہفتے دستخط کئے تھے۔ اس قانون کی منظوری سے قبل اس پر مہینوں تک بحث کی گئی تھی فرانسیسی عوام اس قانون کے حوالے سے شدید منقسم ہے اور دائیں بازو کے ایک تاریخ دان نے اپنے آپ کو پیرس کے مشہور نوٹرے ڈیم کتھیڈرل کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر لیا اور اپنے پیچھے چھوڑے گئے پیغام میں انہوں نے ہم جنس پرست افراد کی شادی کی مذمت کی تھی۔مظاہرین میں سے بعض گدھوں پر سوار تھے جن پر لکھا ہوا تھا کہ ’میں ایک گدھا ہوں، میں نے اولاند کے لئے ووٹ دیا‘۔