عراق : یکے بعد دیگرے 14 کار بم دھماکے‘ بچوں اور خواتین سمیت 66 ہلاک‘ 190 زخمی

عراق : یکے بعد دیگرے 14 کار بم دھماکے‘ بچوں اور خواتین سمیت 66 ہلاک‘ 190 زخمی

بغداد (اے ایف پی+ این این آئی) عراق کے شیعہ آبادی والے علاقوں میں واقع شاپنگ مراکز اور بازاروں میں یکے بعد دیگرے چودہ کار بم دھماکوں میں بچوں اور خواتین سمیت 67 افراد ہلاک جبکہ 190 زخمی ہو گئے، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی حکام نے بتایا کہ پیر کو شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے ال مالیف کی ایک مارکیٹ میں پہلا دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک جبکہ بارہ سے زائد زخمی ہو گئے اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا دھماکہ بغداد کے مرکز میں ساڈاﺅن سٹریٹ کے ایک مصروف تجارتی مرکز میں ہوا جہاں کار بم دھماکے میں 19افراد ہلاک اور13 زخمی ہوئے، حکام نے بتایا کہ تیسرا دھماکہ دارالحکومت بغداد کے مغربی حصے میں پیش آیا اس کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے اسی دوران ملک کے مشرقی علاقے میں چوتھے کار بم دھماکے میں آٹھ شہری ہلاک اور26 زخمی ہو گئے، حکام کے مطابق شمال مشرقی علاقے بایا میں چھٹا کار بم دھماکہ ہوا جس میں چھ افرادکی جان گئی اور16دیگر زخمی ہوئے، بغداد کے مغرب میں کازئی میہ ضلع میں ساتواں کار بم دھماکے میں چار افراددہشت گردوں کا نشانہ بنے اور11 زخمی ہو گئے اسی طرح بغداد کے مرکزمیں آٹھویںکار دھماکے میں تین افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے، حکام نے بتایا کہ مغربی علاقے حبیبہ کے نواح میں دو یکے بعد دیگرے دھماکوں میں 12 افرا د ہلاک اور 35 زخمی ہو گئے، ایک اور علاقے جسار دیالہ میں گیا رواں کار بم دھماکہ ہوا اس میں پانچ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے، شاب کے علاقے میں تیرہویں کار بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔ میدان شہر میں چوہودیں کار بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے۔ہسپتال کے دو حکام نے بم دھماکوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی، انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھماکے میں ہلاک تمام ہلاک و زخمی افراد کو یہاں لایا گیا ہے جہاں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ فی الحال ابھی تک کسی گروہ یا جماعت نے ان دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ لیکن سنی شدت پسند اور عراق میں القاعدہ کے اراکین نے اس سال وہاں حملے بڑھا دیئے ہیں اور وہ اکثر شیعہ علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ مزید بگاڑ پیدا ہو سکے۔ واضح رہے کہ عراق میں شیعہ اور سنی مساجد اور عبادت گاہوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ واضح رہے کہ سال 2006 اور 2007 میں عراق میں فرقہ وارانہ فسادات اپنے عروج پر تھے اور دونوں مکتبہ فکر کے ہزاروں افراد اس میں ہلاک ہوئے تھے۔صوبہ حبیبہ میں 2 دھماکے ہونے سے کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ عراقی فٹ بال ٹیم قریبی سٹیڈیم میں لائیبریا سے دوستانہ میچ کھیل رہی تھی۔ کھلاڑی محفوظ رہے۔ کرکوک میں القاعدہ کا ملیشیا کمانڈر اور موصل میں پولیس کا کرنل قتل ہو گئے۔