ایٹمی دھماکوں میں نوائے وقت کا تاریخ ساز کردار

صابر بخاری ۔۔۔۔
11 مئی کو بھارت نے ایک ساتھ تین ایٹمی دھماکے اور ترشول میزائل کا تجربہ کر کے پاکستان سمیت پوری دنیا کو ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا۔ 13 مئی کو بھارت نے دو مزید دھماکے کر کے پاکستان کا مذاق اڑایا۔ بھارت کے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف پوری قوم متحد ہو گئی۔ یہی وہ لمحات تھے جب نظریہ پاکستان کے محافظ مجید نظامی اور نوائے وقت قوم کی امنگوں کی پہلی آواز بن کر بھارت کے مذموم عزائم کے جواب میں سینہ سپر ہو گئے اور حکومت پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ناپاک عزائم کے خلاف اپنی جسارت کا مظاہرہ کرے اور ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کی بدمستی کا بھرپور جواب دے۔ دوسری طرف امریکہ اور بھارت کے ہمنوا ممالک پاکستان کو نہ صرف صبر کی تلقین کر رہے تھے بلکہ انکار کی صورت میں سخت پابندیوں میں جکڑنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ اس میں کوئی دورائے بھی نہیں کہ ہمارے حکمران ان کی باتوں میں آہی جاتے مگر نوائے وقت قوم کی آواز اور ترجمان بن چکا تھا۔ نوائے وقت نے اس موقع پر قوم کی آواز کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ کرنے میں دیر نہ لگائے کو خصوصی اہمیت دے کر شائع کیا۔ نوائے وقت نے فوری طور پر ایوان وقت کے زیراہتمام مذاکرہ کا انعقاد کیا جس میں ملک کے ممتاز سیاستدانوں اور عسکری ماہرین نے اظہار خیال کیا۔ مقررین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ بھارت کی بدمستی کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرے اور فوری دھماکے کرے۔ نوائے وقت کی انہی کاوشوں کے نتیجے میں پاکستان نے امریکہ سمیت کسی کا دبا¶ قبول نہ کرتے ہوئے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کر دیا جس کے ساتھ ہی امریکہ سمیت اس کے حمایتی ممالک کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت کی دھمکیوں کا یہ مذموم سلسلہ جاری تھا کہ اس نے دھمکی دی کہ اب کشمیر کی باری ہے کئی بھارتی رہنما¶ں نے یہ بیان بھی دیا کہ پاکستان کو بہت برداشت کر لیا اب بھارت کو پاکستان پر حملہ کر دینا چاہئے اس دوران نوائے وقت ایک طرف بھارتی مکروہ عزائم کو قوم پر آشکار کر رہا تھا تو دوسری طرف حکمرانوں کو بھی بجا طور پر باور کروا رہا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی صورت میں بھارتی غنڈہ گردی بڑھتی جائے گی۔اُس وقت کے امریکی صدر کلنٹن اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے وزیراعظم نوازشریف کو فون کیا اور دھماکے نہ کرنے کی صورت میں بھاری مراعات دینے کا بھی اعلان کیا مگر نوازشریف نے دونوں لیڈروں کی بات ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ مجید نظامی اور نوائے وقت نے وزیراعظم نوازشریف کو یہ باور کرا دیا تھا کہ بطور قائد وہ زندہ جاوید ہونا چاہتے ہیں یا رسوا؟ جناب مجید نظامی کی تجویز پر اے پی این ایس نے نیو کلیئر فنڈ قائم کر دیا جس میں نوائے وقت کی طرف سے ایک لاکھ روپے عطیہ بھی دیا۔ مجید نظامی نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کی اور ان کو قوم کی خواہشات سے آگاہ کیا۔ جناب مجید نظامی نے نوازشریف کو کہا ”وزیراعظم صاحب! ایٹمی دھماکے کی بسم اللہ کیجئے، پابندیاں لگتی ہیں تو لگ جائیں، یہ پوری قوم کی آواز ہے، اللہ تعالیٰ کا دیا موقع مت گنوائیے، قوم قربانی کے لئے تیار ہے، صاحبان حیثیت کو بھی سٹیٹس سے نیچے آنا ہوگا، وزیراعظم صاحب! قیام پاکستان کے وقت آپ نے غربت نہیں دیکھی، قوم نے غربت کے یہ دن گزارے ہیں اوراس کے لئے یہ نئی چیز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ایٹم بم پاکستان کے لئے بنایا ہے اس نے کشمیر میں شکست تسلیم کر لی ہے لیکن بھارت کا کشمیر میں وہی حشر ہوگا جو روس کا ہوا تھا۔ میاں صاحب دھماکہ کر دیں اس کے پہلے کہ قوم آپ کا دھماکہ کر دے۔مجید نظامی کی جرات مندانہ اور دو ٹوک باتوں سے جناب نوازشریف کو خوب حوصلہ ملا جس کے بعد نوازشریف نے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کر کے اس فیصلے کا اعلان کردیا کہ بھارتی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ 11 مئی سے بھارت کی کالی اور ننگی جارحیت کیخلاف جناب مجید نظامی اور نوائے وقت کی کاوشیں رنگ لے آئیں اور وہ فیصلے کی گھڑی آ پہنچی جب پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی کو چاغی کے مقام پر پانچ ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ دھماکے ہونے کی خبر سب سے پہلے نوائے وقت نے دی اس روز نوائے وقت کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ اس کا ضمیمہ سب سے پہلے مارکیٹ میں آ گیا اور غوری میزائل کے تجربے کی خبر بھی قبل از وقت درست شائع کی دھماکوں کے وقت کا تعین اور تعداد بھی بتا دی اور پھر قوم دھماکوں سے جھوم اٹھی گھروں میں جشن اور سڑکوں پر رقص کا سماں تھا۔ پوری قوم متحد ہو گئی اور فضا اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھی ۔بھارت کی مستی ہوا میں اڑ گئی۔ بنیئے کا دل دہل گیا۔ ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ وہ 23 برس بعد قوم کے سامنے سرخرو ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوائے وقت میں غوری میزائلوں کی تنصیب کی خبر سے بھارت کو حملہ کی جرا¿ت نہ ہوئی۔ پاکستان نے بھارت پر برتری حاصل کرنے کے لئے 30 مئی کو ایک اور بڑا دھماکہ کر دیا۔