پاکستان ابھی تک لشکر طیبہ کو پناہ دے رہا ہے‘ وہ داعش کا ہدف بھی بن سکتا ہے: امریکہ

واشنگٹن(آن لائن + آئی این پی) امریکی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان لشکر طیبہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ سینٹ کمیٹی میں پیش کی گئی رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ نے کہا کہ بھارت کیساتھ تعلقات میں کشیدگی کے باعث پاکستان ابھی تک لشکر طیبہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہا ہے۔ رواں سال پاکستانی حکومت غالباً تحریک طالبان کے خاتمے پرتمام تر توجہ مرکوز رکھے گی اس کی وجہ پشاور سکول پر حملہ ہے۔ ایک جائزے کے مطابق پاکستان نئی افغان حکومت کیساتھ بہترین مستحکم اور مضبوط تعلقات کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے تاہم دیرینہ عدم اعتمادی اور حل طلب تنازعات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مثبت پیشرفت کی راہ میں رکاوٹ ہے۔انتہا پسندوں کیخلاف کامیاب آپریشن کے باوجود پاکستان کو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے اندرونی سکیورٹی خطرات درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان داعش کا بھی ہدف بن سکتا ہے۔امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے غیر ملکی حکومتوں اور جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے سائبر حملوں کو ملک کو درپیش خطرات میں سرِفہرست قرار دیا ہے۔ جیمز کلیپر کے دفتر سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے سائبر کمانڈ ترتیب دے رہی ہے۔ رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آن لائن حملوں‘ سے امریکی معیشت اور قومی سلامتی کو کمزور کیا جائے گا۔اس میں چین، ایران اور شمالی کوریا کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ کانگرس کی کمیٹی میں اپنے بیان میں جیمز کلیپر نے بتایا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو سائبر جنگ کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ امکان اب قدرے کم دکھائی دیتا ہے ہیکرز بنیادی امریکی ڈھانچے معاشی نظام یا پاور گرڈز کو ناکارہ بنائیں گے۔اپنے بیان میں نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے کہا کہ روس امریکی مفادات پر سائبر حملوں کی صورت میں سب سے بڑا خطرہ ہے۔ نظریات کے تحت اور منافع کمانے والے مجرموں کی صورت میں ہیکرز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یاد رہے کہ جنوری میں امریکہ کی فوجی کمانڈ کے ٹوئٹر اور فیس بک اکاو¿نٹس کو دولتِ اسلامیہ کے حامی گروہ نے ہیک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ آئی این پی کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے کہا ہے کہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب میں آبادی والے تمام علاقوں سے ریاست مخالف عسکریت پسندوں کا صفایا کردیا ہے، توقع ہے فوج 2015ءمیں بھی عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی ، آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے نے دہشت گردی کیخلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کےلئے حکومت اور فوج کاحوصلہ بڑھایا ، ملک بھر میں دہشت گردوں کیخلاف جاری فوجی آپریشنز کے باوجود پاکستان کو مستقبل میں عسکریت پسندوں‘ فرقہ واریت اور علیحدگی پسند گروپوں سے اندرونی سلامتی کے خطرات کا سامنا رہے گا ،نوازشریف کی حکومت نے وعدہ کیاہے کہ وہ مستقبل میں توانائی ، اقتصادی ، سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے اور مقبول اپوزیشن کا کامیابی سے سامنا کرنے کے لئے اقتصادی اصلاحات جاری رکھے گی ،اس سلسلے میں 2015ءمیں اقتصادی اصلاحات کی بھی منظوری دی جائے گی ،اپوزیشن کے دھرنوں اوراحتجاجی مظاہروں کے دوران مسلم لیگ ن کی حکومت اپنی مقبولیت کھوبیٹھی تھی اس نے دھرنوں کے حل کےلئے فوج سے مدد طلب کی تھی ، پاکستان کالعدم لشکر طیبہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے‘ یہ اقدام پاکستان بھارت تعلقات میں مزید کشیدگی کی وجہ رہے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو امریکی خفیہ اداروں کی ”دنیا کو لاحق خطرات اور ہمارا جائزہ“ کے عنوان سے جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ امریکی خفیہ اداروں کا جائزہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دئیے گئے کالعدم گروپ لشکر طیبہ کی حمایت آئندہ بھی جاری رکھے گا پاکستان بھارت تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ رہے گا۔ یہ بھی جائزہ ہے کہ پاکستان ممکنہ طور پر ملک میں اقتصادی اصلاحات اور ریاست مخالف عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی بھی جاری رکھے گا۔ امریکی خفیہ ایجنسی کے اعلی عہدیدار نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ معیشت‘ توانائی اور سیکیورٹی کے مسائل سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ءکے آخر میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کی حکومت کی پوزیشن کمزور ہوگئی تھی جب انہوں نے فوج سے کہا تھا کہ وہ قدم بڑھاتے ہوئے اپوزیشن کے مظاہروں اور دھرنوں سے نمٹے۔ جیمز کلیپر نے کہا کہ ہم نے جائزہ لیا ہے پاکستان 2015ءمیں اقتصادی اصلاحات کی منظوری دے گا تاکہ مستقبل میں معاشی اور توانائی کے چیلنجوں سے نمٹا جاسکے اور ممکنہ طور پر بڑی سیاسی مقبول اپوزیشن کا سامنا کیا جاسکے۔ 2015ءمیں حکومت پاکستان آرمی پبلک سکول پر حملے اور ملک بھر میں دہشت گردی کرنے والی کالعدم تحریک طالبان کی صلاحیتوں کو ختم کرنے پر خصوصی توجہ مرکوز رکھے گی۔ ہم نے اس بات کا بھی اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان نئی افغان حکومت کیساتھ بہتر تعلقات قائم کرکے بہتر ساکھ قائم کرے گا تاہم دونوں ممالک کے درمیان غیر حل شدہ تنازعات اور بداعتمادی کے باعث تعلقات کی بہتری میں زیادہ تیزی سے پیشرفت نہیں ہوسکے گی۔ ڈائریکٹر ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی لیفٹیننٹ جنرل دینسنٹ سٹیورٹ نے کہا کہ پاک فوج نے زمینی آپریشن ضرب عضب کے تحت آبادی والے تمام علاقوں سے ریاست مخالف عسکریت پسندوں کا صفایا کردیا ہے، توقع ہے کہ پاک فوج 2015ءمیں بھی عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ 16 دسمبر 2014ءکو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے حملے نے حکومت اور فوج کی ہمت اور حوصلہ بڑھایا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کیا جائے۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کیخلاف جاری فوجی آپریشنز کے باوجود پاکستان کو مستقبل میں عسکریت پسندوں‘ فرقہ واریت اور علیحدگی پسند گروپوں سے اندرونی سلامتی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا، اسے جنوبی ایشیاءمیں داعش کی رسائی اور پراپیگنڈے کے حوالے سے بھی خدشات لاحق رہیں گے۔