مقبوضہ کشمیر : ماتمی جلوسوں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز کا لاٹھی چارج‘ پتھراﺅ 45 افراد زخمی‘ 15 گرفتار


سرینگر (آن لائن+اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں یوم عاشور کے موقع پر کرفیو جیسی صورتحال کے باوجود عزاداران نے شہادت امام حسین ؓ پر ماتمی جلوس نکالے اور مجالس کا اہتمام کیا گیا، سبیلیں لگائی گئیں اور شہداءکربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اس دوران سکیورٹی فورسز اورعزاداران کے درمیان جھڑپوں میں 40 افراد زخمی ہوگئے جبکہ پندرہ سے زائد کو گرفتارکرلیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق یوم عاشور کے موقع پر ماتمی جلوسوں کو روکنے کیلئے ریاستی انتظامیہ اور بھارتی فوج کی طرف سے سرینگر اور اس کے نواحی علاقوں سمیت وادی بھر میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے تھے فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی اور مذہبی جلوس نکالنے کی اجازت نہیں تھی اس دوران اس خدشے کے پیش نظر کرفیو جیسی صورتحال پیدا کردی گئی تھی کہ حریت پسند یوم عاشور پر حکومت مخالف مظاہرے کر سکتے ہیں۔ مختلف مقامات پر ماتمی جلوس برآمد ہوئے فورسز نے جلوسوں کو روکنے کیلئے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے مشتعل افراد نے فورسز پر پتھراﺅ کیا جھڑپوں میں 40 افراد زخمی ہوگئے جبکہ پندرہ سے زائد عزاداروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے ۔ پابندیوں کی وجہ سے ریڈیو کشمیر کی سروس معطل رہی جبکہ بدترین ٹریفک جام رہی جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دریں اثنائ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کے علاقے نرورہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت امام حسین ؑ اور دیگر شہدائے کربلا کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزاد ی کو دبایا نہیںجا سکتا۔ علی گیلانی نے سرینگر میں ایک بیان میں محرم کے جلوسوںکو روکنے کے لئے قابض انتظامیہ کی طرف سے پابندیوںکے نفاذ کو لوگوں کے دینی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئر میں محمد یاسین ملک نے ایک جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غاصب قوتوں کے خلاف برسر پیکار لوگوںکے لیے حضرت امام حسین ؑ اور انکے ساتھوں کی قربانیاں ہمیشہ باعث تقویت رہی ہیں۔حرےت رہنماﺅں علی گیلانی ،،فریڈم پارٹی سربراہ شبیر شاہ ،نیشنل فرنٹ چیئرمین نعیم احمد خان کے علاوہ جاوید احمد میر اورمولوی عباس انصاری سمیت کئی رہنماوں کو نظر بند کر دےا گےا تھا۔ گوجوارہ میں مشتعل نوجوان نمودار ہوئے اور انہوں نے گاڑیوں پر پتھراﺅ کرنا شروع کر دیا۔ اس موقعہ پر پولیس حرکت میں آئی اور انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا تاہم جب سنگ باری شدت اختیار کر گئی تو پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اورربڑ کی گولیاں چلائیں ۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا یہ سلسلہ دیگر علاقوں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں پائین شہر میں دکانیں بند ہوئیں اور ہر قسم کی آمد ورفت معطل ہو کر رہ گئی۔ گوجوارہ ، نوہٹہ ، مسلم پارک ، کاﺅڈارہ ، راجوری کدل چوک اور نالہ مار روڑ پر کئی جگہوں پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی جس کے دوران متعددمظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔آبی گذر کی ناکہ بندی کرنے کے باعث یہاں سے ذوالجناح کا جلوس نہیں نکالا جاسکا۔کے پی آئی کے مطابق سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بندوق کے ذریعے سے قبرستان کی خاموشی قائم کرائی گئی ہے اور عمرعبداللہ اور نئی دہلی مےں ان کے آقا اس صورتحال کو امن کا نام دیکر اپنے کارناموں میں شمار کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس زورزبردستی نے ریاست میں حبس کا ماحول قائم کیا ہوا ہے اور لوگ اس میں سانس لینے میں بھی دقت محسوس کرتے ہیں۔ یہ حکومتی پالیسی جاری رہی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ان کی ساری ذمہ داری ناعاقبت اندیش حکمرانوں پر عائد ہو گی۔ علی گیلانی کی سرپرستی میں قائم فورم ترجمان نے کہا بھارت نواز پیپلز پارٹی ڈیموکریٹک پارٹی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی پیداوار ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 23 برس کے دوران لاپتہ کئے گئے کشمیریوں میں سے 72 فیصد سے زائد بیگناہ تھے۔ 99.84 فیصد مرد اپنے اہلخانہ کے واحد کفیل تھے۔