صدر مرسی کیخلاف کیس کی سماعت 4 دسمبر کو ہو گی‘ جھڑپیں‘5 ہلاک‘ 70 زخمی


قاہرہ (ایجنسیاں) مصر میں صدر محمد مرسی کے جاری کردہ متنازعہ آئینی اعلامیے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور نیل ڈیلٹا کے علاقے میں اخوان المسلمون کے دفتر کے باہر جھڑپ میں پانچ جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔غےرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اخوان کے ایک مقامی لیڈر جمال حشمت نے بتایا کہ تشدد کا واقعہ نیل ڈیلٹا کے علاقے میں واقع قصبے ضمان حور میں پیش آیا جہاں جماعت کے دفتر کے باہر حکومت مخالفین کے ساتھ جھڑپ میں پندرہ سالہ نوجوان اسلام فتحی محمداورچاردےگرافراد جان کی بازی ہارگئے ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اس قصبے میں صدر محمد مرسی کے مخالفین ان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ صدارتی حکم نامے کے خلاف احتجاج کررہے تھے، وہ جب اخوان کے دفترکے سامنے پہنچے تو وہاں ان کی صدر کے حامیوں سے لڑائی شروع ہوگئی۔متحارب گروپوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں، پٹرول بموں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا۔ ادھر مصر کی عدالت صدر کے اختیارات کے خلاف مقدمے کی سماعت چار دسمبر کو کرے گی مصری صدر محمد المرسی کے اختیارات واپس لئے جانے سے متعلق 12 مقدمات قائم ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سفارت خانے کے پاس پتھر پھینکے گئے۔ کنکریٹ کی دیواریں کھڑی کی جا چکی ہیں اس لئے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ بتایا گیا کہ مصر کے اہم مقامات اور سرکاری دفاتر کے اردگرد پولیس کی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس سے قبل مصر میں بیس سے زائد انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدر مرسی کے نام ایک کھلے خط میں کہا کہ وہ اپنے آپ کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان واپس لیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما محمد البرادعی نے کہا ہے کہ صدر مرسی کے ساتھ اس وقت تک کوئی بات نہیں ہو سکتی جب تک ان کا تازہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا۔ علاوہ ازیں صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ خود کو وسیع اختیارات دینے والا فرمان عارضی ہے اور ان کا اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے کا ارادہ نہیں ہے۔اخوان المسلمین نے آج ملین مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔